مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 247 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 247

میں کسی خوبی کا اپنے لئے دعویدار نہیں ہوں۔میں فقط خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نشان ہوں اور محمد رسول اللہ مالقہ کی شان کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے ہتھیار بنایا ہے۔اس سے زیادہ نہ مجھے کوئی دعوی ہے نہ مجھے کسی دعوی میں خوشی ہے۔میری ساری خوشی اسی میں ہے کہ میری خاک محمد رسول اللہ مطلقہ کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آجائے اور اللہ تعالیٰ مجھے پر راضی ہو جائے اور میرا خاتمہ رسول کریم کے دین کے قیام کی کوشش پر ہو۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (الموعود صفحه 66 و 67 ) اس دن (عید کے دن) خدا تعالیٰ نے ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا ہے اور ہم خوشی منانے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے دلوں کو چاہئے کہ روتے رہیں کہ ابھی محمد رسول اللہ ملالہ اور اسلام کی عید نہیں آئی۔محمد رسول اللہ صل اللہ اور اسلام کی عید سویاں کھانے سے نہیں آتی نہ شیر گرما کھانے سے آتی ہے بلکہ ان کی عید قرآن اور اسلام کے پھیلنے سے آتی ہے۔اگر قرآن اور اسلام پھیل جائیں تو ہماری عید میں محمد رسول اللہ صلی اللہ بھی شامل ہو جائیں گے۔پس کوشش یہی کرو کہ اسلام کی اشاعت ہو، قرآن کی اشاعت ہو تا کہ ہماری عید میں محمد رسول اللہ بھی شامل ہوں۔اگر آج کی عید محمد رسول اللہ ملالہ کی بھی عید ہے تو پھر سارے مسلمانوں کی عید ہے۔لیکن اگر آج کی عید میں محمد رسول اللہ صلی اللہ شامل نہیں تو پھر آج سارے مسلمانوں کے لئے عید نہیں بلکہ ان صلى الله کے لئے ماتم کا دن ہے۔66 (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 32-33 ) عشق قرآن: قرآن مجید سے تعلق اور محبت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " ہم نے صرف قرآن کے لفظوں کو نہیں دیکھا بلکہ ہم خود اس کی محبت کی آگ میں داخل ہوئے اور وہ ہمارے وجود میں داخل ہو گئی۔ہمارے دلوں نے اس کی گرمی کو محسوس کیا اور لذت حاصل کی۔ہماری حالت اس شخص کی نہیں جو دیکھتا ہے کہ بادشاہ باغ کے اندر گیا ہے اور وہ باہر کھڑا اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ کب بادشاہ باہر نکلے تو میں اس کی دست بوسی کر وں بلکہ ہم نے خود بادشاہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور باغ کے اندر داخل ہوئے اور روش روش پھرے اور پھول پھول کو دیکھا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ علوم عطا فرمائے ہیں کہ جن الله کی روشنی میں ہم نے دیکھ لیا کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور محمد رسول اللہ صل ایک زندہ رسول ہے۔“ الفضل 16 ابريل 1924 ء ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنی شہرہ آفاق تقریر ” سیر روحانی میں فرماتے ہیں: و پس اے دوستو! میں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان خزانے سے تمہیں مطلع کر تا ہوں۔دنیا کے تمام علوم اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں۔دنیا کی تمام تحقیقا تیں اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں اور دنیا کی تمام سائنس اس کے مقابلہ میں اتنی حقیقت بھی نہیں رکھتی جتنی سورج کے مقابلہ میں ایک کرم شب تاب حقیقت رکھتا ہے۔دنیا کے علوم قرآن کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں۔قرآن ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور وہ غیر محدود معارف و حقائق کا 247