مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 244 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 244

جوتی نکال کر دے دی اور ننگے پاؤں گھر چلے گئے۔عید کے لئے بلانے والا بار بار آرہا تھا۔اتنے میں سرخ کھال کی جوتی اور کپڑے لاہور سے آپ رضی اللہ عنہ کو پہنچے تب آپ رضی اللہ عنہ نماز کے لئے تشریف لے گئے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 544 ) آپ رضی اللہ عنہ کا نام نامی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ ہے۔آپ رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔12 جنوری 1899 ء کو بہت ساری الہی بشارات کے تحت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ ہی مصلح موعود تھے۔آپ رضی اللہ عنہ 14 مارچ 1914 ء کو جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ کا دورِ مبارک 52 سال پر محیط تھا۔تمام ذیلی تنظیموں کا آغاز آپ رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں ہوا۔آپ رضی اللہ عنہ نے 87 نومبر 1965 ء کی درمیانی شب وفات پائی اور 9 نومبر 1965 ء کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔تعلق بالله : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب میں گیارہ سال کا ہوا اور 1900 ء نے دنیا میں قدم رکھا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں، اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے؟ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی جس طرح ایک بچے کو اس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا۔میں اپنے جامہ میں پھولا نہیں سماتا تھا۔میں نے اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا! مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔مگر آج بھی اس دعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں آج بھی یہی کہتا ہوں خدایا تیری ذات کے متعلق مجھے کبھی شک پیدا نہ ہو۔ہاں اس وقت میں بچہ تھا۔اب مجھے زائد تجربہ ہے۔اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔جب میرے دل میں خیالات کی وہ موجیں پیدا ہونی شروع ہو میں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے تو ایک دن ضحی کے وقت یا اشراق کے وقت میں نے وضو کیا اور وہ جبہ اس وجہ سے نہیں کہ خوبصورت ہے بلکہ اس وجہ وست با میں نے وضو اور وہ جو اس سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے اور متبرک ہے یہ پہلا احساس میرے دل میں خدا تعالیٰ کے فرستادہ کے مقدس ہونے کا تھا، بہن لیا تب میں نے اس کوٹھڑی کا جس میں میں رہتا تھا دروازہ بند کرلیا اور کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی اور میں اس میں خوب رویا خوب رویا، خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔اس گیارہ سال کی عمر میں مجھ میں کیسا عزم تھا! اس اقرار کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی گو اس نماز کے بعد کئی سال بچپن کے ابھی باقی تھے میرا وہ عزم میرے آج کے ارادوں کو شرماتا ہے۔“ (سوانح فضل عمر جلد 1 صفحہ 96-97 ) 244