مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 245 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 245

السلام : پر یہی تعجب شیخ غلام احمد صاحب واعظ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی پیدا ہوا جو ایک نو مسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اخلاص اور ایمان میں ایسی ترقی کی کہ نہایت عابد و زاہد اور صاحب والہام بزرگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔شیخ غلام احمد صاحب واعظ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ: ”ایک دفعہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا، اور تنہائی میں اپنے مولا سے جو چاہوں گا، مانگوں گا مگر جب میں مسجد میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدے میں پڑا ہوا ہے اور الحاح سے دعا کر رہا ہے۔اس کے اس الحاح کی وجہ سے میں نماز بھی نہ پڑھ سکا اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ بھی طاری ہو گیا اور میں بھی دعا میں محو ہو گیا، اور میں نے دعا کی کہ یا الہی! یہ شخص تیرے حضور سے جو کچھ بھی مانگ رہا ہے وہ اس کے دے دے اور میں کھڑا کھڑا تھک گیا کہ یہ شخص سر اٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آئے ہوئے تھے مگر جب آپ نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں۔میں نے السلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا اور پوچھا میاں ! آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تو یہی مانگا ہے کہ الہی! مجھے میرے آنکھوں سے اسلام کو زندہ کر کے دکھا اور یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔“ (سوانح فضل عمر جلد 1 صفحه 151 ) قبولیت دعا: حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”میرے دفتر میں ایک سکھ دوست جو قصبہ فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور کے قریب کے ایک گاؤں لالے منگل کے رہنے والے ہیں تشریف لائے انہوں نے بتایا (میں) تقسیم ملک سے قبل ایک مرتبہ قادیان آیا جمعہ کا دن تھا اور قادیان میں بارش ہو رہی تھی حضرت صاحب ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ) جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر، بیت اقصیٰ سے اپنے گھر تشریف لے جانے لگے تو میں نے عرض کی کہ قادیان میں تو بارش ہو رہی ہے لیکن میرے گاؤں میں سخت گرمی ہے اور وہاں بارش نہ ہونے کے سبب فصلوں کو بہت نقصان ہو رہا ہے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمارے گاؤں پر بھی بارش نازل فرمائے وہ کہتے ہیں جب میں نے عرض کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے اور میں بھی دعا کروں گا اس کے بعد جب میں اپنے گاؤں واپس پہنچا تو وہاں بارش ہو رہی تھی اور جو فصلیں بارش نہ پڑنے کی وجہ سے تباہ ہو رہی تھیں وہ پھر ہری بھری ہو گئیں۔(الفضل 16 مارچ 1958 صفحہ 5 ) سید اعجاز احمد شاہ صاحب لکھتے ہیں: 1951 ء کا واقعہ ہے کہ میں ربوہ میں تھا مجھے برادر خورد عزیزم سید سجاد احمد صاحب کی طرف سے جڑانوالہ سے تار ملا والد صاحب کی حالت نازک ہے جلدی پہنچوں نماز مغرب کے قریب مجھے تار ملا۔مغرب کی نماز میں نے حضرت صاحب (حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ) کی اقتدا میں گھبراہٹ کے عالم میں ادا کی۔آپ رضی اللہ عنہ نماز پڑھا کر واپس تشریف لے جانے لگے تو میں نے عرض کیا: ”جڑانوالہ سے چھوٹے بھائی کا تار ملا ہے ابا جی کی حالت نازک ہے کل صبح جاؤں گا آپ دعا کریں۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اچھا دعا 245