مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 243
صاحب مونگھیری نے اپنی دعا میں جناب باری سے التجا کی میری عمر دو سال کم ہو کر حضرت صاحب کو مل جائے ان دعاؤں کے علاوہ دوستوں نے صدقہ و خیرات بھی کثرت سے کیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔یہ خوشی کی بات ہے کہ بیماری کے ایام میں جماعت اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ادا کیا۔اس موقع پر احمدی ڈاکٹروں نے بھی علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جس پر حضرت نے خاص طور پر شکریہ ہمدردی خلق: ( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 330-331 ) مکرم ڈاکٹر عبدالحمید صاحب چغتائی ماڈل ٹاؤن لاہور تحریر فرماتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ بے حد فیاض اور ہمدرد بنی نوع بشر تھے۔شاگردوں سے بہت اُنس تھی۔اپنے پاس سے طلبا کو کتابیں کپڑے اور کھانا دیتے تھے۔نذرانہ آتا تو اکثر دوستوں اور شاگردوں اور خدام میں بانٹ دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے ایک شاگرد نے عرض کی۔گرم کپڑا نہیں ہے حضرت نے اپنے اوپر ایک دھہ لیا ہوا تھا فوراً اُتار کر دے دیا۔“ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 543 ) ایک صاحب الفضل مؤرخہ 19 مئی 1949ء میں لکھتے ہیں۔حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ ایک روز حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کشمیری ڈھٹہ (کمبل) آیا۔آپ رضی اللہ عنہ نے وہ کمبل کسی ضرورت مند کو دے دیا۔اس روز کئی کمبل آئے اور سب کے سب آپ رضی اللہ عنہ نے تقسیم کر دیئے۔ایک کمبل آیا تو مجھے خیال آیا کہ گھر کے لئے بھی ایک کمبل رہنا چاہئے۔میں نے کہا یہ کمبل آپ کسی کو نہ دیں۔آپ نے وہ کمبل مجھے دے دیا اور فرمایا کہ: ” ہم تو اپنے مولیٰ سے سودا کر رہے تھے۔وہ بھیجتا تھا اور ہم کسی حاجت مند کو دے دیتے تھے۔تم نے ہمارا سودا خراب کر دیا۔اب کوئی کمبل نہ آئے گا۔چنانچہ اس کے بعد وہ سلسلہ بند ہو گیا۔“ حیات نور صفحه 522 از شیخ عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل) سائل کے سوال کو آپ رضی اللہ عنہ نے کبھی رد نہیں فرمایا۔حاجی مفتی عبدالرؤف صاحب بھیروی کا بیان ہے۔جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آتی وہ تقسیم کر دیتے تھے۔ایک حاجت مند آیا کہ لڑکی کی شادی کرنی ہے مگر کوئی پیسہ میرے پاس نہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کتنے پیسوں میں گزارا ہو جائے گا۔اس نے اڑھائی سو روپے بتائے فرمایا بیٹھ جائیں۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ مریضوں کے ہاتھ دیکھتے رہے۔ظہر کے وقت اٹھنے لگے اور کپڑا اٹھایا گنتی کی گئی۔پورے اڑھائی سو روپے نکلے جو اس غریب کو دے دیئے گئے۔ایک شخص نے ایک مصلیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو تحفہ دیا۔آپ رضی اللہ عنہ نے وہ رکھ لیا اور ایک خادمہ کو بلوایا اور فرمایا تم جائے نماز مانگتی تھی خدا نے بھیج دیا ہے یہ اٹھا لے جاؤ۔“ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 544 ) آپ رضی اللہ عنہ عیدین کے موقع پر قادیان کے مستحق امداد لوگوں کے نام لکھ کر بچوں اور بالغوں کے لئے کپڑوں کو ٹانک کر کچھ نقدی کے ہمراہ بھجوا دیا کرتے تھے ایک دن عید میں جب کپڑے تقسیم کئے گئے تو ایک نے کہا کہ میرا پاجامہ اور جوتی نہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے ایک طالب علم سے چادر لی اور پاجامہ اور 243