مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 240
کے بعد بچی پیدا ہوگئی تھی آپ نے فرمایا کہ بچی پیدا ہونے کے بعد تم میاں بیوی آرام سے سو رہے اگر مجھے بھی اطلاع دے دیتے تو میں بھی آرام سے سو رہتا۔میں تمام رات تمہاری بیوی کے لئے دعا کرتا رہا۔“ (حیات نور از شیخ عبدالقادر سابق سوداگر مل صفحه 642 ) چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے کا بیان ہے کہ: 1909ء کے موسم برسات میں ایک دفعہ لگا تار آٹھ روز بارش ہوتی رہی جس سے قادیان کے بہت سے مکانات گر گئے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے قادیان سے باہر نئی کوٹھی تعمیر کی تھی وہ بھی گر گئی۔آٹھویں یا نویں دن حضرت امام جماعت الاول نے ظہر کی نماز کے بعد فرمایا کہ میں دعا کر تا ہوں آپ سب لوگ آمین کہیں۔دعا کے وقت بارش بہت زور سے ہو رہی تھی۔اس کے بعد بارش بند ہو گئی اور عصر کی نماز کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی۔“ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حیات نور از شیخ عبدالقادر سوداگر مل صفحه 440-441 ) ”ایک دفعہ مجھے رؤیا ہوا کہ نبی کریم ملالہ نے مجھے اپنی کمر پر اس طرح اٹھا رکھا ہے جس طرح چھوٹے بچوں کو مشک بناتے ہوئے اٹھاتے ہیں پھر میرے کان میں کہا: تو ہم کو محبوب ہے۔“ آنحضرت صل الله 66 (حیات نور از شیخ عبدالقادر سوداگر مل صفحه 519-520 ) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔۔۔کامل انسان اللہ تعالیٰ کا سچا پرستار بندہ تھا اور ہماری اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ان کے سوا الہی رضا ہم معلوم نہیں کر سکتے اور اسی لئے فرمایا: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُوا نِي يُحْبِبْكُمُ الله - جس طرح پر اس نے اپنے غیب اور اپنی رضا کی راہیں محمد رسول اللہ متعلقہ کے ذریعے ظاہر کی ہیں اسی طرح پر اب بھی اس کی غلامی میں وہ ان تمام امور کو ظاہر فرماتا ہے۔اگر کوئی انسان اس وقت ہمارے درمیان ،آدم، نوح، ابراہیم موسیٰ، عیسی، داؤد، محمد، احمد ہے تو محمد صلی اللہ ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی چادر کے نیچے ہو کر ہے۔کوئی راہ اگر اس وقت کھلتی ہے اور کھلی ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو کر ورنہ یقیناً یقینا سب راہیں بند ہیں۔کوئی شخص براہِ راست اللہ تعالیٰ سے فیضان حاصل نہیں کر سکتا۔“ حضرت حقائق الفرقان جلد 1 صفحہ 463 ) ت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله راست باز آدمی کو سچائی میں کس قدر طاقت دی جاتی ہے اور کہ راستی میں کتنی قوت ہوتی ہے اس کا اندازہ اس آیت سے ہو سکتا ہے۔دیکھو محمد رسول اللہ مطلقہ کو ارشاد ہے کہ اعلان کر دو میں نے خدا کی فرمانبرداری کر کے یہ مقام حاصل کیا اب تم میرے پیچھے پیچھے چلو تم بھی خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔ہر شخص کی زندگی کا آرام اس بستی کے مقتدر کی مہربانی سے وابستہ ہوتا ہے۔پھر اس گاؤں کے نمبردار سے اوپر چلیں تو اس ضلع کے حاکم سے۔پس اللہ جو ربّ، رحمن، رحیم اور مالک ہے اس کے ساتھ تعلق کس قدر سکھوں کا موجب ہو سکتا ہے۔یہاں تعلق کا وعدہ نہیں بلکہ فرمایا خدا اپنا محبوب ہمیں بنا لے گا۔خدا پرست دیکھ کر اسے 240