مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 241 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 241

تجربہ کرلے۔کیا مجرب نسخہ ہے! میں اکثر اوقات اس آیت کو پڑھ کے بے اختیار نبی کریم کرتا ہوں۔پر درود بھیجا لڑکے پڑھنے میں سخت محنت کرتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سل اور دق ہو جاتا ہے تا بی۔اے بن جائیں اور پھر کوئی مرتبہ پائیں۔اب دیکھئے پاس ہونا موہوم صحت موہوم، مرتبہ ملنے تک زندہ رہنا خیالی بات، باوجود اس کے لڑکے محنت کئے جاتے ہیں۔پس وہ انسان کیسا بدبخت ہے جو اس خدا کے پاک وعدے کی جو ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے کچھ قدر نہ کرے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ شریعت مشکل ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا اعلان اعلان کرتے ہیں میری چال اختیار کرو۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ شریعت مشکل ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و کرتے ہیں میری چال اختیار کرو۔کوئی کہہ سکتا ہے ہم بڑے گنہگار ہیں۔فرماتا ہے میرے رنگ میں رنکین ہو جاؤ۔میرے فرمانبردار بن جاؤ۔اللہ وعدہ کرتا ہے گناہ بخش کر پھر بھی اپنا محبوب بنالیں گے کیونکہ ہمارا نام غفور، رحیم ہے۔عشق قرآن حقائق الفرقان جلد 1 صفحہ 462 ) حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن شریف کے ساتھ مجھ کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دوائر مجھے الف محبوب نظر آتے ہیں اور میرے منہ سے قرآن کا ایک دریا رواں ہو تا ہے اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔بعض وقت تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان کروں۔“ بیماری کے ایام اور درس قرآن کریم: دو (بدر 19 اکتوبر 1911ء صفحہ 3 کالم (2) پر مصنف حیات نور مکرم شیخ عبدالقادر سوداگر مل نے ان ایام کا نقشہ یوں کھینچا ہے: جب آپ رضی اللہ عنہ جنوری 1914ء کے شروع میں بیمار ہوئے تو باوجود بیماری اور کمزوری کے حسب معمول بیت اقصیٰ میں تشریف لے جا کر ایک توت کے درخت کا سہارا لے درس دیتے رہتے۔گو رستہ میں چند مرتبہ ناتوانی کی وجہ سے قیام بھی کر لیتے تھے۔جب کمزوری بہت بڑھ گئی اور بیت کی سیڑھیوں پر چڑھنا دشوار ہو گیا تو بعض دوستوں کے اصرار پر مدرسہ احمدیہ کے صحن میں درس دینا شروع فرما دیا۔ان ایام میں آپ رضی اللہ عنہ نقاہت کی وجہ سے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لے جاتے تھے اور اس طریق واپس تشریف لے جاتے تھے مگر جب ضعف اور بھی بڑھ گیا اور دوسروں کے سہارے بھی چلنا مشکل ہو گیا تو اپنے صاحبزادہ میاں عبدالحی صاحب کے مکان میں درس دیتے رہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ کھڑے ہو کر درس دیا جائے مگر آخری دو تین ہفتے جب اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہ رہی اور ڈاکٹروں نے درس بند کر دینے کا مشورہ دیا تو فرمایا کہ ( کلام الہی) میری روح کی غذا ہے اس کے بغیر میرا زندہ رہنا محال ہے لہذا درس میں کسی حالت میں بھی بند نہیں کر سکتا غلالباً انہی ایام کا ذکر کرتے ہوئے الفضل لکھتا ہے۔ضعف کا یہ حال ہے کہ بغیر سہارے کے بیٹھنا تو درکنار سر کو بھی خود نہیں تھام سکتے۔اس حالت میں ایک دن 241