مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 239 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 239

ایسا لاؤ جو طبیب مشہور نہ ہو اور کوئی ایسی دوا بتا دے جس کو میں خود بنا لوں۔وہ میرے پاس آیا اور مجھے اس کے پاس لے گیا۔میں نے سن کر کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں صدری ہے۔میں جب وہاں پہنچا تو وہ اپنے باغ میں بیٹھا تھا۔میں اس کے پاس کرسی پر جا بیٹھا۔تو اس نے اپنی حالت کو بیان کر کے کہا کہ ایسا نسخہ تجویز کر دیں جو میں خود ہی بنا لوں۔میں نے کہا: ہاں ہو سکتا ہے جہاں ہم بیٹھے تھے وہاں کیلا کے درخت تھے۔میں نے اس کو کہا کہ کیلا کا پانی 5 تولہ لے کر اس میں ایک ماشہ شورہ قلمی ملا کر پی لو۔اس نے جھٹ اس کی تعمیل کر لی کیونکہ شورہ بھی موجود تھا۔اپنے ہاتھ سے دوائی بنا کر پی لی۔میں چلا گیا۔دوسرے دن پھر میں گیا تو اس نے کہا مجھے تو ایک ہی مرتبہ پینے سے آرام ہو گیا ہے اب حاجت ہی نہی رہی۔میں تو جانتا تھا کہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل نے پیدا کر دیا ہے اور آپ ہی میری توجہ اس علاج کی طرف پھیر دی۔میں تو پھر چلا آیا مگر اس نے میرے دوست کو بلا کر زربفت کمخواب وغیرہ کے قیمتی لباس اور بہت سے روپے میرے پاس بھیجے۔جب وہ میرے پاس لایا تو میں نے اس کو کہا کہ یہ وہی صدری ہے۔وہ حیران تھا کہ صدری کا کیا معاملہ ہے۔آخر سارا قصہ اس کو بتایا اور اس کو میں نے کہا زربفت وغیرہ تو ہم پہنتے نہیں۔اس کو بازار میں بیچ لاؤ۔چنانچہ وہ بہت قیمت پر بیچ لایا۔اب میرے پاس اتنا روپیہ ہو گیا کہ حج فرض ہو گیا اس لئے میں نے اس کو کہا کہ اب حج کو جاتے ہیں کیونکہ حج فرض ہو گیا ہے۔غرض اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کو کچھ بھی نقصان نہیں ہو تا۔ہاں اس میں دنیا کی ملونی نہیں چاہئے بلکہ خالصاً لوجہ اللہ ہو۔اللہ کی رضا مقصود ہو اور اس کی مخلوق پر شفقت ملحوظ ہو“۔قبولیت دعا: حیات نور صفحه 46-47 از شیخ عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل) مکہ میں دعا کے بارہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: ”جب ہم حج پہ گئے تو ہم نے ایک روایت سنی ہوئی تھی کہ مکہ میں جو شخص دعائیں مانگے اس کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے یہ روایت تو چنداں قومی نہیں۔تا ہم جب ہم دعا مانگنے لگے تو ہم نے یہ مانگا یا الہی میں مضطر ہو کر کوئی دعا تجھ سے مانگوں تو اس کو قبول کر لینا۔“ جب حیات نور از شیخ عبد القادر سابق سوداگر مل صفحه 520 ) محترم حضرت چوہدری غلام محمد صاحب بی اے کی روایت ہے کہ چودھری حاکم دین صاحب کی بیوی کو پہلے بچے کے وقت سخت تکلیف تھی۔آپ رات گیارہ بجے حضرت امام جماعت اول کے گھر گئے چوکیدار سے پوچھا کہ کیا میں حضرت صاحب کو اس وقت مل سکتا ہوں اس نے نفی میں جواب دیا لیکن اندرون خانہ حضرت صاحب نے آواز سن لی اور پوچھا کون ہے چوکیدار نے عرض کی کہ چودھری حاکم دین ملازم بورڈنگ ہیں فرمایا آنے دو۔آپ اندر چلے گئے اور زچگی کی تکلیف کا ذکر کیا آپ اندر جا کر ایک کھجور لے آئے اور اس پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور چودھری صاحب کو دے کر فرمایا یہ اپنی بیوی کو کھلا دیں اور جب بچہ ہو جائے تو مجھے بھی اطلاع دیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔تھوڑی دیر بعد بچی پیدا ہوگئی۔چودھری صاحب نے سمجھا کہ اب دوبارہ حضرت صاحب کو جگانا مناسب نہیں اس لئے سو رہے۔صبح کی ندا کے وقت وہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت مولوی صاحب اس وقت وضو کر رہے تھے۔چودھری صاحب نے عرض کیا۔کھجور کھلانے 239