مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 208 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 208

( بدر 2 جون 1908ء) الغرض حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جماعت کا سب سے پہلا اجماع خلافت پر ہوا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ خلیفہ اسیح الاوّل قرار پائے۔بیعت خلافت اولیٰ اور حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی درد انگیز تقریر: حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ جب مذکورہ بالا تحریر سنا چکے تو حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور تشہد و تعوذ اور آیت وَلَتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ - کی تلاوت کے بعد ایک دور انگیز تقریر کی جس میں فرمایا: ”میری پچھلی زندگی پر غور کر لو۔میں کبھی امام بننے کا خواہش مند نہیں ہوا۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم امام الصلوة بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیا تھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے۔میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہش مند نہیں، میں ہرگز ایسی باتوں کا خواہش مند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے، اس خواہش کیلئے میں دعائیں کرتا ہوں اور قادیان بھی اس لئے رہا اور رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اسی فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب علیہ السلام کے بعد کیا ہو گی اس لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تو اس درجہ تک پہنچ جائے۔حضرت صاحب کے اقارب میں اس وقت تین آدمی موجود ہیں: اوّل میاں محمود احمد وہ میرا بھائی بھی ہے میرا بیٹا بھی، اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔قرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں، تیسرے قریبی نواب محمد علی خاں صاحب ہیں۔اسی طرح خدمت گزاران دین میں سے۔۔۔۔۔۔۔۔اور بھی کئی اصحاب ہیں۔“ " پس میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن عمائد کا نام لیا ہے ان میں سے کوئی منتخب کر لو میں تمہارے ساتھ بیعت کرنے کو تیار ہوں۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت علیہ السلام نے مجھے اشارہ فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا سو اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا۔پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔66 آخر میں فرمایا: اب تمہاری طبیعتوں کے رُخ خواہ کسی طرف سے ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہو گی اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہاً اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں، ان میں خصوصیت سے قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتا فوقتا اللہ میرے دل میں ڈالے شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات، دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشا کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا وَلَتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْر - یاد رکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی۔فقط حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاول کی اس تقریر پر سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم آپ کے 208