مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 207
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدِ الْمُصْطَفَى وَعَلَى الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ خَاتَمِ الْأَوْلَيَاءِ۔أما بعد مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے مطمئن ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں سے اَعْلَمُ (سب سے بڑھ کر علم رکھنے والے۔ناقل) اور اتقی (سب سے بڑھ بڑھ کر متقی اور پرہیز گار۔ناقل) ہیں اور حضرت امام (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) سے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ علیہ السلام کے شعر: چه خوش بودے اگر ہر یک زی اُمت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر یک پر از نور یقیں بودے سے ظاہر ہے کہ ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمد کی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام و مہدی موعود علیہ السلام کا تھا۔“ صدر انجمن کی طرف سے جماعتوں کو اطلاع: ( بدر جون 1908ء) 28 مئی 1908ء کو احکام کا ایک غیر معمولی پرچہ شائع کیا گیا جس میں خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات اور حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کے انتخاب کی اطلاع مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع ہوئی: حضور علیہ الصلوۃ السلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ علیہ السلام کے وصایا مندرجہ الوصیت کے مطابق حسب مشوره معتمدین صدر انجمن احمدیہ موجودہ قادیان و اقربا حضرت مسیح موعود علیہ السلام باجازت حضرت اُم لمومنین کی قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو (1200) تھی، والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ علیہ السلام کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ (خلیفہ اسیح الاول) کے ہاتھ پر بیعت کی۔معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجود تھے: مولانا حضرت سید محمد احسن صاحب، صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب نواب محمد علی خاں صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب و خاکسار (خواجہ کمال الدین) موت اگر چہ بالکل اچانک تھی اور اطلاع دینے کا بہت ہی کم وقت ملا تاہم انبالہ، جالندھر، کپورتھلہ، امرتسر، لاہور، گوجرانوالہ، وزیر آباد، جموں ، گجرات، بٹالہ، گورداسپور وغیرہ مقامات سے معزز احباب آگئے اور حضور علیہ الصلوۃ السلام کا جنازہ ایک کثیر جماعت نے قادیان اور لاہور میں پڑھا۔حضرت قبلہ حکیم الامت سلمہ کو مندرجہ بالا جماعتوں کے احباب اور دیگر کل حاضرین نے جب کی تعداد اوپر دی گئی ہے بالا تفاق خلیفہ اسیح قبول کیا۔یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے فی الفور حضرت حکیم الامت خلیفه امسیح و المہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر بیعت کریں۔“ 207