مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 209
احکام مانیں گے۔آپ ہمارے امیر ہیں اور ہمارے مسیح علیہ السلام کے جانشین ہیں۔چنانچہ باغ میں یہ قریباً بارہ سو احباب نے بیعت کی۔دور خلافت أولى: ( تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 556-557۔جدید ایڈیشن) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ (1841ء 1914ء) کی ابتدائی زندگی: ”حاجی الحرمین حضرت حافظ مولوی نورالدین صاحب خلیفة المسیح الاول 1841ء میں پنجاب کے ایک قدیم شہر بھیرہ میں پیدا ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ کے والد کا نام حافظ غلام رسول اور والدہ کا نام نور بخت تھا۔32ویں پشت میں آپ رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے آپ رضی اللہ عنہ کے خاندان میں بہت سے اولیا اور مشائخ گزرے ہیں۔گیارہ پشت سے تو حفاظ کا سلسلہ بھی برابر چلا آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اس مقدس خاندان کو ابتدا سے ہی قرآن کریم سے والہانہ شغف رہا ہے۔ابتدائی تعلیم تو ماں باپ سے حاصل کی پھر لاہور اور راولپنڈی میں تعلیم پائی۔نارمن سکول سے فارغ ہو کر چار سال پنڈ دادنخاں میں سکول کے ہیڈ ماسٹر رہے پھر ملازمت ترک کردی اور حصول علم کے لئے رامپور، لکھنو، میرٹھ اور بھوپال کے سفر اختیار کئے ان ایام میں آپ رضی اللہ عنہ نے عربی، فارسی، منطق، فلسفہ ، طب غرض ہر قسم کے مروجہ علوم سیکھے۔قرآن کریم سے قلبی لگاؤ تھا اور اس کے معارف آپ رضی اللہ عنہ پر کھلتے رہتے تھے۔توکل علی اللہ کا اعلیٰ مقام حاصل تھا، دعاؤں سے ہر کام لیتے تھے، جہاں جاتے غیب سے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے سہولت کے سامان پیدا ہو جاتے اور لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے گرویدہ ہو جاتے۔ایک مرتبہ ایک رئیس زادہ کا علاج کیا تو اس نے اس قدر روپیہ دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ پر حج فرض ہو گیا۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ مکہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے، حج بھی کیا اور وہاں کئی اکابر علما اور فضلا سے حدیث پڑھی۔اس وقت آپ کی عمر چوبیں چھپیں برس تھی۔بلاد عرب و ہند سے واپس آ کر بھیرہ میں درس و تدریس اور مطب کا آغاز کیا۔مطب کی شان یہ تھی مریضوں کیلئے نسخے لکھنے کے دوران احادیث وغیرہ بھی پڑھاتے۔1877ء میں لارڈ لٹن Lord) (Litton وائسرائے (Viceroy) ہند کے دربار میں شرکت کی کچھ عرصہ بھوپال میں قیام کیا۔پھر ریاست جموں و کشمیر میں 1876 ء سے 1892ء تک شاہی طبیب رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت: گورداسپور کے ایک شخص کے ذریعہ آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غائبانہ تعارف ہوا اور حضور علیہ السلام کا ایک اشتہار بھی نظر سے گزرا۔مارچ 1885ء میں قادیان پہنچ کر حضور علیہ السلام سے ملاقات کی۔اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیعت نہ لیتے تھے تاہم فراست صدیقی سے آپ رضی اللہ عنہ نے۔، آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت صاحب علیہ السلام کو شناخت کیا اور حضرت صاحب رضی اللہ عنہ کے گرویدہ ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر آپ رضی اللہ عنہ نے پادری تھامس ہاول (Thomas Howell) کے اعتراضات کے جواب میں کتاب فصل الخطاب اور پنڈت لیکھرام کی کتاب ” تکذیب براہین احمدیہ 209