مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 176
وو خاکسار مرزا محمود احمد اخبار الفضل قادیان دارالامان مؤرخہ 8 اپریل 1915ء نمبر 124 جلد 2 صفحہ 5) حضرت خلیفۃ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں واپسی کے وقت غالباً زیورک میں تھا کہ میں نے خواب دیکھی کہ میں رستہ پر گزر رہا ہوں کہ مجھے سامنے ایک ریوالونگ لائٹ (Revolving light یعنی چکر کھانے والی روشنی نظر آئی جیسے ہوائی جہازوں کو رستہ دکھانے کے لئے منارہ پر تیز لیمپ لگائے ہوئے ہوتے ہیں جو گھومتے رہتے ہیں۔میں نے خواب میں خیال کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے۔پھر میرے سامنے ایک دروازہ ظاہر ہوا جس میں پھاٹک نہیں لگا ہوا بغیر پھاٹک کے کھلا ہے میرے دل میں خیال گزرا کہ جو شخص اس دروازہ میں کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کا نور گھومتا ہوا اس کے اوپر پڑے تو خدا تعالیٰ کا نور اس کے جسم کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے تب میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا ناصر احمد اس دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہو گیا اور وہ چکر کھانے والا نور گھومتا ہوا اس دروازے کی طرف مڑا اور اس میں سے تیز روشنی گذر کر ناصر احمد کے جسم میں گھس گئی۔" (روزنامه الفضل ربوه مؤرخہ 8 اکتوبر 1955ء صفحہ 2) یہ لکھی حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کا ایک کشف: مکرم عبدالستار صاحب سیکشن آفیسر رشید سٹریٹ 4 غلام نبی کا لونی سمن آباد لاہور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کا مندرجہ ذیل کشف تحریر فرمایا: ایک دفعہ میں نے مسجد مبارک قادیان میں حضرت مولوی سید سرور شاہ ساحب سے دریافت کیا کہ کتاب حقیقة الوحی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے پوتے نصیر احمد کا ذکر فرمایا ہے۔وہ کون ہیں؟ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: وہ تو فوت ہو گئے تھے اور مرزا ناصر احمد صاحب ان کے بعد پیدا ہوئے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک کشف یا رویا سنایا ( مجھے اس وقت یاد نہیں رہا کہ کشف تھا یا رؤیا) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے دیکھ کہ ایک بہت بڑی ڈھول کی قسم کی ایک چیز ہے جو چکر کھا رہی ہے اس ڈھول کی بیرونی سطح پر خانے بنے ہوئے ہیں اور ہر خانہ میں کوئی صفت یا خوبی ہوئی ہے وہ ڈھول گھوم رہا ہے اور اس پر لکھا ہے کہ جس شخص میں یہ اوصاف ہوں گے اور اپنے ماں باپ کا دوسرا لڑکا ہو گا وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑا شخص ہو گا پھر دیکھا کہ اس ڈھول میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سر مبارک نکلا ہے اور آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ”وہ میں ہوں“ پھر یہ ڈھول اسی طرح گھومتا جاتا ہے اور اس پر یہی الفاظ لکھے ہیں کہ ایک دوسرا سر اس ڈھول میں سے ظاہر ہوا، وہ حضرت خلیفہ ایج الثانی رضی اللہ عنہ ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” وہ میں ہوں“۔اسی طرح یہ ڈھول گھومتا جاتا ہے اور دو اور سر اسی طرح ظاہر ہوئے اور ان میں ہر ایک نے کہا کہ: ” وہ میں ہوں۔“ میں نے حضرت مولوی صاحب سے پوچھا کہ تیسرے وجود کون ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وقت سے پہلے بتانا مناسب نہیں ہوتا۔میں نے عرض کی کہ حضور میں تو سمجھ گیا ہوں میری مراد یہ تھی کہ وہ تیسرے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ہیں جو اپنے ماں باپ کے دوسرے فرزند ہیں۔“ دو ( بشارات ربانیہ از مولانا جلال الدین شمس صاحب صفحہ 32-31) 176