مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 177
سید مسعود مبارک شاہ صاحب ابن سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم ربوہ: میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ تحریر کرتا ہوں کہ نو دس سال ہوئے میں نے ایک خواب دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں ایک میدان میں جماعت کے بڑے بڑے احباب زمین پر بیٹھے ہیں ان میں چودھری ظفر اللہ خان صاحب بھی ہیں ان کے ساتھ ہی میں بھی بیٹھا ہوا ہوں۔ہم سب حضور کی وفات کے غم سے سخت نڈھال ہیں اور ساتھ ہی یہ غم ہے کہ اب جماعت کا کیا بنے گا؟ اتنے میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث) تشریف لاتے ہیں اور مجمع کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر فرمانا شروع کرتے ہیں، ان کے پیچھے غلام احمد پٹھان جو پہرہ دار ہے صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب کو گود میں اٹھائے جن کی عمر دو تین سال کی لگی ہے کھڑا ہے۔تقریر کے دوران میں ہم سب لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے نہایت عمدگی کے ساتھ موضوع نبھایا ہے۔تمام لوگوں کے چہروں سے گھبراہٹ کی بجائے اطمینان کے آثار پائے جاتے ہیں اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔“ 66 ( ” بشارات ربانیہ از مولانا جلال الدین شمس صاحب صفحہ 49) کشف حضرت مرزا غلام رسول صاحب پشاوری رضی اللہ عنہ: میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر حلفیہ بیان کرتا ہو کہ میرے خسر حضرت مرزا غلام رسول صاحب پشاوری رضی اللہ عنہ جو صحابی تھے اور صاحب کشوف و رؤیا تھے۔اغلباً 1945 ء یا 1946 ء میں انہوں نے قادیان میں خاکسار سے بیان کیا تھا کہ: ” میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ مرزا ناصر احمد صاحب کے سینہ میں ایک نور ہے یا ایک نور چمک رہا ہے۔“ پھر یہ بھی فرمایا: ” میں نے مرزا ناصر احمد صاحب کو جماعت کا خلیفہ بنا ہوا دیکھا ہے۔“ خاکسار بشارت الرحمن پروفیسر تعلیم السلام کالج ربوہ خلافت رابعہ کے متعلق پیشگوئیاں: " بشارات ربانیہ از مولانا جلال الدین شمس صاحب صفحہ 43) مولانا عبید اللہ بسمل صاحب نے اپنی تصنیف ارحج المطالب یعنی سیرت امیرالمؤمین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے باب اول جناب امیر کے اسمائے مبارک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک نام طاہر لکھا ہے چنانچہ تحریر ہے: الطَّاهِرُ : عَنْ أَبِي الدَّرِى فِى قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرّجُسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا قَالَ نَزَلَتْ هذِهِ الْآيَةِ فِى خَمْسَةِ فِي النَّبِيِّ وَعَلَى الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ وَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ وَ الطَّبَرَانِي وَ ابْنُ حَرِيرِ فِي تَارِيخِهِ) ابو ذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت جس کا ترجمہ یہ ہے کہ نہیں چاہتا ہے اللہ مگر یہ کہ دور کرے تم سے نجاست کو اے گھر والوں اور پاک کرے تم کو خوب پاک کرنا صرف پانچ شخصوں کے شان میں نازل ہوئی ہے۔یعنی بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور علی اور حسن اور حسین اور جناب سیدہ فاطمہ علیہا السلام کے حق 177