مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 174
(3 اس کے بعد اکتوبر 1907ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بشارت دی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيْمٍ يَنْزُلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَكِ ترجمہ: ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ مبارک احمد کی شبیہ ہو گا۔(البدر 12 ستمبر 1907ء) (البدر 31اکتوبر 1907ء) 4 اشتہار 5 نومبر 1907ء بعنوان” تبصره“: دو لیکن خدا کی قدرتوں پر قربان جاؤں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ الہام کیا: انا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيم يَنْزُلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَک یعنی ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھے خوشخبری دیتے ہیں۔جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہو گا اور اس کا قائمقام اور اس کا شبیہ ہوگا پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو۔اس لئے اس نے بمُجَرَّدُ وفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دے دی تا یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہے اور ایک الہام میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا: اِنّى أُرِيحُكَ وَلَا أَجِيْحُكَ وَ أَخْرِجُ مِنكَ قَوْمًا یعنی میں تجھے راحت دوں گا اور میں تیری قطع نسل نہیں کروں گا اور ایک بھاری قوم تیری ن سے پیدا کروں گا یہ خدا کا کلام ہے جو اپنے وقت پر پورا ہوگا۔اگر اس زمانہ کے بعض لوگ لمبی عمر میں پائیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ آج جو خدا کی طرف سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے وہ کس شان اور قوت اور طاقت سے ظہور میں آئے گی خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 588-587 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کے البدل کے طور پر حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خليفة أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ عطا ہوئے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں اپنے ایک خط میں تحریر فرماتی ہیں: ” برادرم مکرم سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط ملا۔یہ درست ہے کہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا ناصر احمد کو بچپن سے اکثر بیٹی کہا کرتیں تھیں اور فرماتی تھیں کہ یہ میرا مبارک ہے، بیٹی ہے جو مجھے بدلہ میں مبارک کے ملا ہے۔مبارک احمد کی وفات کے بعد کے الہامات بھی شاہد ہیں ایک بار میرے سامنے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا سے اور بڑے زور سے اور بہت یقین دلانے والے الفاظ میں فرمایا تھا کہ: تم کو مبارک کا بدلہ بہت جلد ملے گا، بیٹے کی صورت میں یا نافلہ کی صورت میں۔“ مجھے مبارک احمد کی وفات کے تین روز بعد ہی خواب آیا کہ مبارک احمد تیز تیز قدموں سے آ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں پر ایک بچہ اٹھائے ہوئے 66 ہے، اس نے آ کر میری گود میں وہ بچہ ڈال دیا اور وہ لڑکا ہے اور کہا کہ: ” لو آپا یہ میرا بدلہ ہے (یہ فقرہ بالکل وہی ہے جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا) میں نے جب یہ خواب صبح حضرت اقدس کو سنایا تو آپ علیہ السلام بہت خوش ہوئے مجھے یاد ہے آپ علیہ السلام کا چہرہ مبارک مسرت سے سے چمک رہا تھا اور فرمایا کہ: ”بہت مبارک خواب ہے۔آپ علیہ السلام کی بشارتوں اور آپ علیہ السلام کے کہنے کی وجہ تھی کہ ناصر احمد سلمہ اللہ کو اماں جان رضی اللہ عنہا نے اپنا بیٹا بنا لیا تھا، اماں جان کے ہی ہاتھوں میں ان کی پرورش 66 174