مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 173 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 173

اچا نک نظر آگئے ہیں اور حضور علیہ السلام نے میاں صاحب یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے چہرے کو اس طرح دکھایا کہ حضور علیہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”فکر کی کیا بات ہے؟ تین دن کو یہ جو ہو گا۔“ اس خواب کے بعد حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ کو صحت ہونی شروع ہو گئی لیکن میں اس خواب کی وجہ سے یہ خیال کرتی رہی کہ حضرت کی وفات اب بہت قریب ہونے والی ہے مگر جوں جوں دن گزرتے گئے حضور رضی اللہ عنہ کی صحت اچھی ہوتی گئی حتی کہ چند دنوں کے بعد ان کو صحت ہو گئی اور وہ خطرناک حالت بیماری کی جاتی رہی۔آخر قریباً تین سال کے بعد حضرت رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ خلیفہ منتخب ہوئے، تب معلوم ہوا کہ میری خواب اس طرح پوری ہوئی ہے کہ تین دن سے مراد تین سال تھے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت کی خبر خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے تین سال قبل ان کا چہرہ دکھا کر دی تھی۔“ دو جناب بابو عبدالکریم صاحب مغل پورہ لاہور : بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحه 423 از مولانا عبدالرحمن مبشر صاحب) جناب بابو عبدالکریم صاحب مغل پورہ لاہور بیان کرتے ہیں: ( تاریخ ٹھیک طور پر یاد نہیں، غالباً خلافتِ اُولیٰ کے آخری ایام تھے) دیکھا ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے جس میں ہلکا سا پردہ لگا ہوا ہے جس جگہ پر وہ ہے وہ بہت بلند جگہ ہے اور دوسری بہت نیچی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ نچلی جگہ سے دریا زمین چھوڑ گیا ہے میں نچلی جگہ میں کھڑا ہوں یک لخت پردہ کے درمیان سے ایک ہاتھ نچلی جگہ کی طرف نمودار ہوا جو اس قدر روشن ہے کہ اس کی مثال دنیا میں میرے دیکھنے میں نہیں آئی سمجھنے کے لئے بجلی کے کئی واٹ (watt) کا انڈا (Bulb) تصور ہو سکتا ہے مگر وہ روشنی ٹھنڈی فرحت افر تھی، میں اس روشنی کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں کہ آواز آئی: ”کیا دیکھتے ہو محمود کا ہاتھ ہے بیعت کرو۔“ میرے دل میں محسوس ہوا کہ یہ حضرت اُم المؤمنین کی آواز ہے۔خلافت ثالثہ کے متعلق پیشگوئیاں : الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام: (1 مارچ 1906ء 66 (بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحه 291 و 292 از مولانا عبدالرحمن مبشر صاحب) چند روز ہوئے یہ الہام ہوا تھا: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ نَّافِلَةً لَكَ ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر ہو کہ محمود کے ہاں لڑکا ہو کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو۔“ (2 ستمبر 1907ء ( تذکرہ مجموعہ الہامات ، کشوف، رؤیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایڈیشن چہارم 2004 صفحہ 519) ”خواب میں دیکھا کہ ایک پانی کا گڑھا ہے میاں مبارک احمد اس میں داخل ہوا اور غرق ہو گیا۔بہت تلاش کیا گیا مگر کچھ پتہ نہیں ملا پھر آگے چلے گئے تو اس کی بجائے ایک اور لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔“ 173