مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 157 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 157

157 ظاہر ہوتا رہا جن کا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کام کی تعمیل تھا۔اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام تھے جن کو کئی مسلمان غلطی سے صاحب شریعت نبی جھتے ہیں۔اسی طرح اس زمانہ کے سیمی بھی ان کی نسبت یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ وہ ایک نیا قانون لے کر آئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان کی کتاب کو نیا عہد نامہ کہتے ہیں حالانکہ قرآن کریم مسیح ناصری علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین کا قائم کرنے والا ایک خلیفہ قرار دیتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے چند آیات بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَفَّيْنَا عَلَى اثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَابَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ (مائده رکوع (7) یعنی ہم نے مذکورہ بالا نبیوں کے بعد جو تورات کی تعلیم کو جاری کرنے کے لئے آئے تھے عیسی بن مریم کو بھیجا جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے تھے اور تورات کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے تھے خود مسیح ناصری بھی فرماتے ہیں: ”یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوح کرنے آیا ہوں میں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہیں ملے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔“ (متی باب 5 آیت 17 و 18) غرض یوشع سے لے کر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے معاً بعد ان کے خلیفہ ہوئے حضرت مسیح ناصری السلام تک سب انبیاء اور مجددین حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور ان کی شریعت کو جاری کرنے والے تھے۔پس جب خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا که لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ تو اس سے یہ استنباط ہوا کہ پہلی خلافتوں والی برکات مسلمانوں کو بھی ملیں گی اور انبیائے سابقین سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ سلوک کیا وہی سلوک وہ امت محمدیہ کے خلفا کے ساتھ بھی کرے گا اگر کوئی کہے کہ پہلے تو خلافت ملوکیت کا بھی ذکر آتا ہے پھر خلافت ملوکیت کا ذکر چھوڑ کر صرف خلافت نبوت کے ساتھ اس کی مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک مسلمانوں کے ساتھ بادشاہتوں کا بھی وعدہ ہے مگر اس جگہ بادشاہت کا ذکر نہیں بلکہ صرف مذہبی نعمتوں کا ذکر ہے چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمُ که خدا تعالیٰ اپنے قائم کردہ خلفا کے دین کو دنیا میں قائم کر کے رہے گا۔اب یہ اصول دنیا کے بادشاہوں کے متعلق نہیں اور نہ ان کے دین کو خدا تعالیٰ نے کبھی دنیا میں قائم کیا ہے بلکہ اصول روحانی خلفا کے متعلق ہی ہے۔پس یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ اس جگہ جس خلافت سے مشابہت دی گئی ہے وہ خلافت نبوت ہے نہ کہ خلافت ملوکیت۔اسی طرح فرماتا ہے: وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا كم خدا ان کے خوف کو امن سے بدل دیا کرتا ہے۔یہ علامت بھی دنیوی بادشاہوں پر کسی صورت میں بھی چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ دنیوی بادشاہ اگر آج تاج و تخت کے مالک ہوتے ہیں تو کل تخت سے علیحدہ ہو کر بھیک مانگتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے خوف کو امن سے بدل دینے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جب کوئی سخت خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کی ہمت تک کھو بیٹھتے ہیں۔پھر فرماتا ہے يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کہ وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے گویا وہ خالص موحد اور شرک کے شدید ترین دشمن ہوں گے مگر دنیا کے بادشاہ تو شرک بھی کر لیتے ہیں حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے کبھی کفر بواح بھی صادر ہو جائے پس وہ اس آیت کے مصداق کس طرح ہو سکتے ہیں۔چوتھی دلیل جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خلفا سے مراد دنیوی بادشاہ ہر گز نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ