مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 158 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 158

فرماتا ہے مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ یعنی جو لوگ ان خلفا کا انکار کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے اب بتاؤ کہ کیا جو شخص کفر بواح کا بھی مرتکب ہو سکتا ہو آیا اس کی اطاعت سے خروج فسق ہو سکتا ہے ؟ یقیناً ایسے بادشاہوں کی اطاعت سے انکار کرنا انسان کو فاسق نہیں بنا سکتا فسق کا فتویٰ انسان پر اسی صورت میں لگ سکتا ہے جب وہ روحانی خلفا کی اطاعت سے انکار کرے۔غرض یہ چاروں دلائل جن کا اس آیت میں ذکر ہے اس امر کا ثبوت ہیں کہ اس آیت میں جس خلافت کا ذکر کیا گیا ہے وہ خلافت ملوکیت نہیں۔پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ کہ ہم ان خلفا پر ویسے ہی انعامات نازل کریں گے جیسے ہم نے پہلے خلفا پر انعامات نازل کئے تو اس سے مراد یہی ہے کہ جیسے پہلے انبیاء کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی رہی ہے اسی طرح ان کی مدد ہو گی۔پس اس آیت میں خلافت نبوت سے مشابہت مراد ہے نہ کہ خلافت ملوکیت سے۔“ منکرین خلافت کا انجام غیر مبایعین کی عبرت ناک ناکامی: ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 370 تا 374) جہاں تک غیر مبائین کا تعلق ہے فتنہ منافقین کی پشت پناہی کے بعد نہ صرف یہ کہ ان کی سب سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں بلکہ ہر محاذ پر بری طرح ناکام رہے حتی کہ انہیں یقین ہو گیا کہ ان کی حیثیت لاشئہ بے جان سے زیادہ نہیں چنانچہ اخبار ”پیغام صلح " ومئی 1973 ء نے اپنے اداریہ میں نہایت افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کیا : دو ” ہماری اس جماعت احمد یہ لاہور کا وجود پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے۔“ اس اخبار نے دوبارہ 25 مئی 1977ء کے ادارتی نوٹ میں انجمن اشاعت اسلام لاہور کی حالت زار کا نقشہ درج ذیل الفاظ میں کھینچا: ہے۔رکھا ہمیں اپنے ہر شعبہ زندگی میں یہی نظر آتا ہے کہ ہم نے دین کو دنیا پر نہیں دنیا کو دین پر مقدم مامور وقت نے اپنے نور بصیرت سے انجمن اراکین کی نسبت اسی لئے فرمایا تھا کہ جب انجمن کے دیکھیں کہ اس کے کسی رکن کے دل میں دنیا کی ملونی ہے تو انجمن کا فرض ہو گا کہ اسے نکال دے کیونکہ ایسا شخص دنیا کا ذلیل ترین کیڑا ہوتا ہے جو اندر ہی اندر جماعت کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ہمارے سارے مسائل اور الجھنوں کی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے اس راستہ سے بھٹک گئے ہیں جس پر حضرت مسیح موعود السلام ہمیں ڈال گئے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پس پشت ڈال کر اپنے لئے نئے راستے تلاش کرنے شروع کر دیئے ہیں۔بیرونی سیاست گری نے ہمارے معاملات میں مداخلت شروع کر دی ہے ہم سب کچھ اپنی آنکھ کے سامنے ہوتا دیکھ کر بھی اسے روکنے کی جرات سے محروم ہیں جو مصلحتیں پہلے بگاڑ پیدا کر چکی ہیں وہ اب بھی ہمارے مد نظر ہیں ہم شرافت کے پردے میں بزدلی کا شکار ہیں۔قول سدید سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں اگر ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئے گئے اس عہد کی طرف میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا “ واپس لوٹنا ہوگا اور آپ علیہ السلام کی وصیت کو سینے سے لگا کر دنیا کی ملونی کو باہر نکال پھینکنا ہوگا۔“ ،، سے 158 (پیغام صلح لاہور 18/25 مئی 1977ء صفحہ 4 و تاریخ احمدیت جلد نمبر 19 صفحہ 204)