مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 156 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 156

اپنے یعنی تم اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر غور کرو جو اس نے تم پر اس وقت کیا تھا جب اس نے تم میں نبی بھیجے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو دنیا کی معلوم قوموں میں سے کسی کو نہیں دیا تھا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہود کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا اِذْ جَعَلَ فِيكُمْ اَنْبِيَاءَ کے ماتحت انہیں خلافت نبوت دی اور جَعَلَكُمْ مُلُوكًا کے ماتحت انہیں خلافت ملوکیت دی چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے وقت تک تو اور کوئی بادشاہ ان میں نہیں ہوا اس لئے اس سے مراد یہ ہے کہ نبوت موسوی اور بادشاہت موسوی عطا کی جو دریائے نیل کو یار کرنے کے بعد سے اُن کو حاصل ہو گئی تھی جیسا کہ فتح مکہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بھی تھے اور ایک لحاظ سے بادشاہ بھی تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت خدا تعالیٰ کے احکام کے تابع تھی خود سر بادشاہوں والی بادشاہت نہ تھی۔مگر ان دو قسم کی خلافتوں کے علاوہ نبی کے وہ جانشین بھی خلیفہ کہلاتے ہیں جو اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں۔یعنی اس کی شریعت پر قوم کو چلانے والے اور ان میں اتحاد قائم رکھنے والے ہوں خواہ وہ نبی ہوں یا غیر نبی۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام موعود راتوں کیلئے طور پر گئے تو بعد انتظام کی غرض سے انہوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کو کہا کہ اُخْلُفْنِی فِي قَوْمِي وَأَصْلِحُ وَلَا تَتَّبِعُ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ (اعراف ع (17) یعنی میرے بعد میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ان کی اصلاح کو مد نظر رکھنا اور مفسد لوگوں کی بات نہ ماننا۔حضرت ہارون علیہ السلام چونکہ خود نبی تھے اور اس وقت سے پہلے نبی ہو چکے تھے اس لئے یہ خلافت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دی تھی وہ خلافت نبوت نہیں ہو سکتی تھی۔اس کے معنے صرف یہ تھے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی غیر حاضری میں ان کی قوم کا انتظام کریں اور قوم کو اتحاد پر قائم رکھیں اور فساد سے بچائیں۔پس وہ ایک تابع نبی بھی تھے اور ایک حکمران نبی کے خلیفہ بھی تھے اور یہ خلافت خلافت نبوت نہ تھی بلکہ خلافت انتظامی تھی مگر اس قسم کی خلافت بعض دفعہ خلافت انتظامی کے علاوہ خلافت نبوت بھی ہوتی ہے یعنی ایک سابق نبی کی اُمت کی درستی اور اصلاح کیلئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ایک اور نبی مبعوث فرماتا ہے جو پہلے نبی کی شریعت کو ہی جاری کرتا ہے کوئی نئی شریعت نہیں لاتا گویا جہاں تک شریعت کا تعلق ہوتا ہے وہ پہلے نبی کے کام کو قائم رکھنے والا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے پہلے نبی کا خلیفہ ہوتا ہے لیکن عہدہ کے سے وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے اس قسم کے خلفا بنی اسرائیل میں بہت گزرے ہیں بلکہ جس قدر انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں آئے ہیں سب اسی قسم کے خلفا تھے یعنی وہ نبی تو تھے مگر کسی جدید شریعت کے ساتھ نہیں آئے تھے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو ہی دنیا میں جاری کرتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيْهَا هُدًى وَّ نُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ اسْلَمُرُ اللَّذِينَ هَادُوا وَ الرَّبَّانِيُّونَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتَحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُو عَلَيْهِ شُهَدَاءَ (مائدہ (ع (7) یعنی ہم نے تو رات کو یقیناً ہدایت اور نور سے بھر پور اُتارا تھا اس کے ذریعہ سے انبیاء جو (ہمارے) فرمانبردار تھے اور عارف اور ربانی علما بہ سبب اس کے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر نگران تھے یہودیوں کے لئے فیصلے کیا کرتے تھے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کئی انبیاء ایسے آئے تھے جن کا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا قیام تھا۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔لیکن ان انبیاء کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی جن کو ربانی اور احبار کہنا چاہیے اس کام پر مقرر تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور مجددین کا ایک لمبا سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے خلفا کے طور پر لحاظ 156