مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 147
ہوتا ہے کہ چاہیے حضرت محمد اسماعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام صاحب صحیح مسلم اپنے صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعوی کر کے بتلا دیا کہ فلاں فلاں امر اس وقت ظہور ہو گا لیکن امام محمد مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کی رو سے ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیر منفک ٹھہرا رہی ہیں اور دراصل یہ خیال بالکل فضول اور مہمل معلوم باوجود یکہ ایک ایسی شان کا آدمی ہو کہ جس کو باعتبار باطنی رنگ اور خاصیت اس کی کے مسیح ابن مریم کہنا دنیا میں ظہور کرے اور پھر اس کے ساتھ کسی دوسرے مہدی کا آنا بھی ضروری ہو۔کیا وہ خود مہدی نہیں ہے؟ کیا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر نہیں آیا؟ کیا اس کے پاس اس قدر جواہرات و خزائن و اموال معارف و دقائق نہیں ہیں کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں اور اس قدر ان کا دامن بھر جائے جو قبول کرنے کی جگہ نہ رہے۔پس اگر یہ سچ ہے تو اس وقت دوسرے مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ صرف امامین موصوفین کا ہی مذہب نہیں بلکہ ابن ماجہ اور حاکم نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے لَا مَهْدِيٌّ إِلَّا عِيسَى یعنی بجز عیسی کے اس وقت کوئی مہدی نہ ہو گا اور یوں تو ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں اور ممکن کہ آئندہ بھی آدیں اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو لیکن جس طرز سے عوام کے خیال میں ہے اس کا ثبوت پایا نہیں جاتا چنانچہ یہ صرف ہماری ہی رائے نہیں اکثر محقق یہی رائے ظاہر کرتے آئے ہیں۔66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ہے (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 378 تا379) " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا أَوَّلُهَا فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاخِرُهَا فِيْهِمْ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَ بَيْنَ ذَلِكَ فَيْجٌ أَعْوَجٌ لَيْسُوا مِنِّى وَلَسْتُ مِنْهُمْ یعنی امتیں دو ہی بہتر ہیں ایک اول اور ایک آخر اور درمیانی گروہ ایک لشکر سج ہے دیکھنے میں ایک فوج اور روحانیت کے رُو سے مردہ ہے نہ وہ مجھ سے اور نہ میں ان میں سے ہوں۔حدیث صحیح میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی که اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ اَوْ رِجَالٌ مِّنْ فَارِسَ پس اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخری زمانہ میں فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک آدمی پیدا ہو گا کہ وہ ایمان میں ایسا مضبوط ہو گا کہ اگر ایمان ثریا میں ہوتا تو وہیں سے اس کو لے آتا اور ایک دوسری حدیث میں اسی شخص کو مہدی کے لفظ سے موسوم ہے اور اس کا ظہور آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے اور دجال کا ظہور بھی آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص دجال کے مقابل پر آنے والا ہے وہ یہی شخص ہے اور سنت اللہ بھی اسی بات کو چاہتی ہے کہ جس ملک میں دجال جیسا خبیث پیدا ہوا اسی ملک میں طیب بھی پیدا ہو کیونکہ طبیب جب آتا ہے تو بیمار کی طرف ہی رُخ کرتا ہے اور یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ بموجب احادیث صحیحہ کے دجال تو ہندوستان میں پیدا ہو اور مسیح دمشق کے میناروں پر جا اُترے۔اس میں شک نہیں کہ مدینہ منورہ سے ہندوستان سمت مشرق میں واقع ن سمت مشرق میں واقع ہے بلا شبہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ مشرق کی طرف سے ہی دجال کا ظہور ہو گا اور مشرق کی طرف سے ہی رایات سود مہدی ہے۔اللہ کے ظاہر ہوں گے گویا روز ازل سے یہی مقرر ہے کہ محل فتن بھی مشرق ہی ہے اور محل اصلاح فتن بھی کیا گیا 147