مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 146 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 146

ہوا؟ پھر اپنی رائے لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائن قویہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر ان کا ظہور ہو گا پھر لکھتے ہیں کہ قرآئن ہیں کہ تیرھویں صدی میں دجالی فتنے بہت ظہور میں آ گئے ہیں اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح نمودار ہو رہے ہیں اور اس تیرھویں صدی کا فتن و آفات کا مجموعہ ہونا ایک ایسا امر ہے کہ چھوٹے بڑے کی زبان پر جاری ہے یہاں تک کہ جب ہم بچے تھے تو بڑھی عورت سے سنتے تھے کہ حیوانات نے بھی اس تیرھویں صدی سے پناہ چاہی ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ ہر چند یہ مضمون کسی صحیح حدیث سے ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں ہوتا لیکن جب انقلاب عالم کا ملاحظہ کریں اور بنی آدم کے احوال میں جو فرق صریح آ گیا ہے اس کو دیکھیں تو یہ ایک سچا گواہ اس بات پر ملتا ہے کہ پہلے اس سے دنیا کا رنگ اس عنوان پر نہیں تھا۔سو اگر چہ مکاشفات مشائخ کے پورے بھروسہ کے لائق نہیں کیونکہ کشف میں خطا کا احتمال بہت ہے لیکن کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے جو مہدی اور عیسی کا ظہور ہو کیونکہ امارت صغریٰ بِجَمِيعِها وقوع میں آگئی ہیں اور عالم میں ایک تغیر عظیم پایا جاتا ہے اور اہل عالم کی حالت نہایت درجہ پر بدل گئی ہے اور کامل درجہ کا ضعف اسلام پر وارد ہو گیا ہے اور وہ حقیقت نورانیہ جس کا نام علم ہے وہ دنیا سے اٹھ گئی ہے اور جہل بڑھ گیا ہے اور شائع ہو گیا ہے اور فسق و فجور کا بازار گرم ہے اور بغض اور حسد اور عداوت پھیل گئی ہے اور مال کی محبت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور تحصیل اسباب معاش سے ہمتیں ہار گئیں اور دار آخرت سے بکلی فراموشی ہو گئی اور کامل طور پر دنیا کو اختیار کیا گیا۔سو یہ علامات بینہ اور امارات جلیہ اس بات پر ہیں کہ اب وہ وقت بہت نزدیک ہے میں کہتا ہوں کہ اور مولوی صدیق حسن صاحب کا یہ کہنا کہ کسی صحیح حدیث سے مسیح کے ظہور کا کوئی زمانہ خاص ثابت نہیں ہوتا صرف اولیا کے مکاشفات سے معلوم ہوتا ہے کہ غایت کار تیرھویں صدی کے اخیر تک اس کی حد ہے یہ مولوی صاحب کی سراسر غلطی ہے اور آپ ہی وہ مان چکے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ آدم کی پیدائش کے بعد عمر دنیا کی سات ہزار برس ہے اور اب عمر دنیا میں سے بہت ہی تھوڑی باقی ہے۔پھر صفحہ 385 میں لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ نے انس سے یہ حدیث بھی لکھی ہے سے یہ حدیث بھی لکھی ہے جس کو حاکم نے بھی مستدرک میں بیان کیا ہے کہ لَا مَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ یعنی عیسی بن مریم کے سوا اور کوئی مہدی موعود نہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ مہدی کا آنا بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو تا ہے میں کہتا ہوں کہ مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں ہیں اسی وجہ سے امامین حدیث نے ان کو نہیں لیا اور ابن ماجہ اور مستدرک کی حدیث ابھی معلوم ہو چکی ہے کہ عیسی ہی مہدی ہے لیکن ممکن ہے کہ ہم اس طرح پر تطبیق کر دیں کہ جو شخص عیسی کے نام سے آنے والا احادیث میں لکھا گیا ہے اپنے وقت کا وہی مہدی اور وہی امام ہے اور ، مکن ہے کہ اس کے بعد کوئی مہدی بھی آوے اور یہی مذہب حضرت اسماعیل بخاری کا بھی ہے کیونکہ اگر ان کا بجز اس کے کوئی اور اعتقاد ہوتا تو ضرور وہ اپنی حدیث میں ظاہر فرماتے لیکن وہ صرف اسی قدر کہہ کر چپ ہو گئے کہ ابن مریم تم میں اترے گا جو تمہارا امام ہوگا اور تم میں سے ہی ہوگا۔اب ظاہر ہے کہ امام وقت ایک ہی ہوا کرتا ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد 3 صفحه 404 تا 406) ایسا ہی مہدی کے بارہ میں جو بیان کیا جاتا ہے کہ ضرور ہے کہ پہلے امام محمد مہدی آویں اور بعد اس کے ظہور مسیح ابن مریم کا ہو۔یہ خیال قلت تدبر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کیلئے ایک لازم غیر منفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگ شیخ اور امام حدیث کے یعنی 146