مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 148 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 148

مشرق ہی ہے۔اور اس جگہ ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا اللہ جل شانہ نے ظاہر الفاظ آیت میں وَاخَرِينَ مِنْهُمْ کا لفظ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ لوگ جو کمالات میں صحابہ کے رنگ میں ظاہر ہوں گے وہ آخری زمانہ میں آئیں گے۔ایسا ہی اس آیت میں وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ کے تمام حروف کے اعداد سے جو 1275 ہیں اس بات کی طرف اشارہ کر دیا جو وَ اخَرِينَ مِنْهُمُ کا مصداق جو فارسی الاصل ہے اپنے نشاء ظاہر کا بلوغ اس سن میں پورا کر کے صحابہ سے مناسبت پیدا کر لے گا۔سو یہی سن 1275 ہجری جو آیت وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے اس عاجز کی بلوغ اور پیدائش ثانی اور تولد روحانی کی تاریخ ہے جو آج کے دن تک چونتیس برس ہوتے ہیں۔“ وہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 216 تا 220) خلافت عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ از حضرت مسیح موعود علیه السلام: خلافت عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: پس انبیاء کی طرف نسبت دے کر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء مِنْ حَيْثِ الظُّلُ باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ظلمی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہو کر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اسی ظلی وجود قائم رکھنے کیلئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے خدا ہمارے ہمیں سیدھی راہ دکھا جو تیرے ان بندوں کی راہ ہے جن پر تیرانعام ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انعام جو انبیاء پر ہوا تھا جس کے مانگنے کیلئے اس دعا میں حکم ہے اور وہ درم اور دینار کی قسم میں سے نہیں بلکہ وہ انوار اور برکات اور محبت اور یقین اور خوارق اور تائید سماوی اور قبولیت اور معرفت تامہ کاملہ اور وحی اور کشف کا انعام ہے اور خدا تعالیٰ نے اس اُمت کو اس انعام کے مانگنے کے لئے تبھی حکم فرمایا کہ اوّل اس انعام کے عطا کرنے کا ارادہ بھی کر لیا۔پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اس امت کو ظلّی طور پر تمام انبیا کا وارث ٹھہراتا ہے تا انبیا کا وجود ظلمی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہ ہو اور نہ صرف دعا کیلئے حکم کیا بلکہ ایک آیت میں وعدہ بھی فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کریں گے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلا دیں گے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئیں تھیں۔پھر بعض اور آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور خداوند کریم نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ روحانی معلم جو انبیاء کے وارث ہیں ہمیشہ ہوتے ص رہیں اور وہ یہ ہیں: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور: 56) وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةً أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد: 32) وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا - (بنی اسرائیل: 16) یعنی خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے اے مومنانِ امت محمدیہ وعدہ کیا ہے کہ تمہیں بھی وہ زمین میں خلیفہ کرے گا جیسا کہ تم سے پہلوں کو کیا اور ہمیشہ کفار پر کسی قسم کی کوفتیں جسمانی ہوں یا رُوحانی پڑتی رہیں گی یا ان کے گھر 148