مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 128 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 128

حضرت مسیح موعود علیہ السلام يَأْمُرُهُمُ بِالْمَعْرُوفِ کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ” یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل منع کرتی ہے اور پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک کو حرام ٹھہراتا ہے اور قوموں کے سر پر سے بوجھ اُتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے اور اس کی مدد کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 420) تو جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرتا ہے، وہی احکامات دیتا ہے جن کو عقل تسلیم کرتی ہے، بری باتوں سے روکتا ہے، نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور ان سے پرے ہٹ ہی نہیں سکتا تو خلیفہ بھی جو نبی کے کاموں کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کے ذریعہ مقرر کردہ ہوتا ہے وہ بھی اس تعلیم کے انہی احکامات کو آگے چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کے ذریعہ ہم تک پہنچائے اور اس زمانہ میں آنحضرت متعلقہ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کر کے ہمیں بتائے تو اب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضرت کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہو چکا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے ہیں اور انشاء اللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔اگر کسی وقت خلیفہ وقت کی غلطی سے یا غلط فہمی کی وجہ سے کوئی ایسا فیصلہ ہو جاتا ہے جس سے نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو اللہ تعالیٰ خود ایسے سامان پیدا فرما دیتا ہے کہ اس کے بد نتائج کبھی بھی نہیں نکلتے اور نہ انشاء اللہ نکلیں گے “ مال الله (خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 341-342) سید نا حضرت خلیفة لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: خلفا کی طرف سے مختلف وقتوں میں مختلف تحریکات بھی ہوتی رہتی ہیں۔روحانی ترقی کے لئے بھی جیسا کہ مساجد کو آباد کرنے کے بارہ میں ہے، نمازوں کے قیام کے بارہ میں ہے، اولاد کی تربیت کے بارہ میں ہے، اپنے اندر اخلاقی قدریں بلند کرنے کے بارہ میں ہے، وسعت حوصلہ پیدا کرنے کے بارہ میں، دعوت الی اللہ کے بارہ میں یا متفرق مالی تحریکات ہیں، تو یہی باتیں ہیں جن کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔دوسرے لفظوں میں اطاعت در معروف کے زُمرے میں یہی باتیں آتی ہیں۔تو نبی نے یا کسی خلیفہ نے تمہارے سے خلاف احکام الہی اور خلافت عقل تو کام نہیں کروانے، یہ تو نہیں کہنا کہ تم آگ میں کود جاؤ اور سمندر میں چھلانگ لگا دو۔گزشتہ خطبہ میں ایک حدیث میں میں نے بیان کیا تھا کہ امیر نے کہا کہ آگ میں کود جاؤ تو اس کی ایک اور روایت ملی ہے جس میں مزید وضاحت ہوتی ہے: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ حلالہ نے عَلْقَمَة مِنْ مُجَزِّزُ کو ایک غزوہ کے لئے روانہ کیا جب وہ اپنے غزوہ کی مقرر جگہ کے قریب پہنچے یا ابھی وہ رستہ ہی میں تھے کہ ان سے فوج کے ایک دستہ نے اجازت طلب کی۔چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی اور ان پر عبدا للہ بن حذافہ بن قیس اہمی کو امیر مقرر کر دیا۔کہتے ہیں میں بھی اس کے ساتھ غزوہ پر جانے والوں میں سے تھا۔پس جب کہ وہ رستہ میں ہی تھے تو ان لوگوں نے آگ سینکنے یا کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی تو عبداللہ نے (جو امیر مقرر ہوئے تھے اور جن کی حسن مزاح بہت تیز تھی) کہا کیا تم پر میری بات سن کر اس کی اطاعت فرض نہیں؟ ابھی 128