مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 127 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 127

لحاظ سے محمد صل اللہ سے فیض حاصل کرنے والا ہر شخص آیت استخلاف کے ماتحت آپ کا نائب ہے اور اسی کو ہم خلیفہ کہتے ہیں اور ایک دوسرے لحاظ سے انبیائے بنی اسرائیل کے مقابلے میں انعامات نبوت حاصل کرنے والے اس سے زیادہ تعداد میں جتنے اُمت موسویہ میں تھے امت محمدیہ میں وہ خلفا ہیں۔یہ ایک دوسرا سلسلہ خلافت کا ہے اور ایک تیسرا سلسلہ خلافت کا ہے اور یہ تیسرا سلسلہ خلافت کا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ نے فرمایا اس سلسلہ خلافت میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں گن کر اور شمار کر کے ہمیں بتایا ہے کہ وہ السلام صال الله کے ہے تیرہ خلیفے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تیرہ امت موسویہ یعنی بنی اسرائیل میں اور تیرہ ہی محمد بعد امت محمدیہ میں ہوئے اور ان تیرہ سے تیرھواں اور آخری میں ہوں اور یہ خلافت کا ایک علیحدہ سلسلہ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں مجدد الف آخر ہوں، میں امام آخر الزماں ہوں، میں آخری ہزار سال کا آدم ہوں مختلف الفاظ استعمال کر کے آپ علیہ السلام نے اپنے مقام کو ظاہر کیا۔پس یہ جو سلسلہ خلافت ہے اس میں تیرہ خلیفے ہیں چودھواں کوئی نہیں۔اس کی گنجائش ہی کوئی نہیں۔ہاں بنی اسرائیل کے انبیاء کے مقابلے میں ہزاروں کی تعداد میں محمد ملحقہ کے خلفا آتے رہیں گے، ان کو انعامات نبوت ملیں گے مقام نبوت ان کو نہیں ملے گا جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج اسلام کی جو جنگ لڑی جا رہی ہے اس میں اتحاد اور پجہتی کی ضرورت ہے اس لئے جماعت کے اندر ایک ایسا اتحاد ہونا چاہئے جس میں انتشار کا شائبہ تک نہ ہو اور جو شیطانی تدبیریں اور منصوبے ہیں ان کے خلاف ایسا منصوبہ اور تدبیر کی جائے جس میں پوری یک جہتی ہو۔یہ نہ ہو کہ کچھ ادھر سے دباؤ پڑ رہا ہو اور کچھ ادھر سے دباؤ پڑ رہا ہو۔اس یک جہتی اور اس اتحاد کو قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا کہ تیرے بعد میں ایک ایسا سلسلہ خلافت قائم کر رہا ہوں جو قیامت تک قائم رہے گا (میں آپ کا کوئی اقتباس نہیں پڑھ رہا۔کم و بیش اپنے الفاظ میں بتا رہا ہوں اس لئے ہو سکتا ہے کہ الفاظ میں کچھ فرق پڑ جائے ) آپ علیہ السلام نے فرمایا میں خدا تعالیٰ کی مجسم قدرت ہوں۔خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر اپنی زبردست قدرت کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ کہ میرے بعد خدا تعالیٰ بعض اور وجودوں کے ہاتھ پر اپنی زبر دست قدرت کو ظاہر کرے گا اور یہ خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ اسلام کو غالب کرنے کے لئے اس نے ایک نظام قائم کر دیا ہے۔فرمایا ایک زبردست قدرت جو میرے بعد تمہیں ملنے والی ہے یہ بالا تصال یعنی کسی وقفے کے بغیر قیامت تک تمہارے ساتھ رہے گی۔پھر آپ علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ فرمایا جب قیامت کا زمانہ آئے گا تو نسل آدم پر قیامت ہے۔ہمارے آدم کی نسل تباہ ہو جائے گی۔“ وو دو میں وہ الفضل 21 مئی 1978ء) حضرت خلیفۃ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 27 اگست 1993ء میں فرمایا: تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسے لوگ اگر سو سال کی عمریں بھی پائیں گے اور مر جائیں تو نامرادی میں مریں گے اور کسی مجدد کا منہ نہیں دیکھیں گے۔ان کی اولادیں بھی لمبی عمریں پائیں اور مرتی چلیں جائیں اور ان کی اولادیں بھی لمبی عمریں پائیں اور مرتی چلی جائیں، خدا کی قسم! خلافت احمدیہ کے سوا کہیں اور مجددیت کا منہ نہ دیکھیں گی۔یہی وہ تجدید دین کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے جو ہر صدی کے سر پر ہمیشہ جماعت کی ضرورتوں کو پورا کرتا چلا جائے گا۔“ سید نا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: (ماہنامہ خالد مئی 1994ء) 127