مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 129 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 129

انہوں نے کہا کیوں نہیں؟ اس پر عبدا للہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا میں تم کو جو بھی حکم دوں گا تم اس کو بجا لاؤ گے؟ انہوں نے کہا: ہاں ہم بجا لائیں گے۔اس پر عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں تاکیڈا کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو۔اس پر کچھ لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کی تیاری کرنے لگے۔پھر جب عبدا للہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ یہ تو سچ سچ آگ میں کودنے لگے ہیں تو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا اپنے آپ کو (آگ میں ڈالنے سے ) روکو۔(خود ہی یہ کہہ بھی دیا جب دیکھا کہ لوگ سنجیدہ ہو رہے ہیں) کہتے ہیں پھر جب ہم اس غزوہ سے واپس آ گئے تو صحابہ نے اس واقعہ کا ذکر نبی کریم مطلقہ سے کر دیا۔اس پر رسول کریم متعلقہ نے فرمایا: ”اُمرا میں سے جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔(سنن ابن ماجه كتاب الجهاد باب لاطاعة في معصية الله) تو واضح ہو کہ نبی یا خلیفہ وقت کبھی بھی مذاق میں بھی یہ بات نہیں کر سکتا۔تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم کسی واضح حکم کی خلافت ورزی تم امیر کی طرف سے دیکھو تو پھر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔اور اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہو چکا ہے اور خلیفہ وقت تک پہنچو جس کا فیصلہ ہمیشہ معروف فیصلہ ہی ہو گا انشاء اللہ۔اور اللہ تعالیٰ اور رسول ملاقہ کے احکام کے مطابق ہی ہو گا۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ تمہیں خوشخبری ہو کہ اب تم ہمیشہ معروف فیصلوں کے نیچے ہی ہو۔کوئی ایسا فیصلہ انشاء اللہ تمہارے لئے نہیں ہے جو غیر معروف ہو۔“ خلافت کے ذریعہ بد رسومات اور بدعات کا رد: (خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 343 تا345) الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَ هُم فِى التَّوْرَةِ وَالْانْجِيلِ يَأْمُرُهُمُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْههُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبِيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ، فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَ عَزَّرُوهُ وَ نَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا التَّوْرَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَهُ لا أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ( سورة الاعراف : 158) ترجمہ:۔جو اس رسول نبی امی پر ایمان لاتے ہیں جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور انہیں بری باتوں سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتا ہے اور ان سے ان کے بوجھ اور طوق اتار دیتا ہے۔جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسے عزت دیتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔(ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام يَأْمُرُهُمُ بِالْمَعْرُوفِ کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ” یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل منع کرتی ہے اور پاک چ چیزوں کو حلال کرتا حلال کرتا ہے اور ناپاک کو حرام ٹھہراتا ہے اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے 129