مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 106
تحریک وقف جدید کے ثمرات: اس امر کا اندازہ کہ وقف جدید کس حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور دیہاتی جماعتوں پر اس کے کیا خوش کن اثرات ظاہر ہو رہے ہیں مندرجہ ذیل امور سے لگایا جا سکتا ہے: چندوں میں غیر معمولی اضافہ: معلمین کے ذریعہ دو طرح پر جماعتی چندوں میں اضافہ ہوتا ہے۔اوّل ان کی تربیت کے نتیجہ میں جماعت میں قر بانی کی روح ترقی کرتی ہے اور جماعتی چندوں پر بھی اس کا نہایت خوشگوار اثر پڑتا ہے۔مثلاً ایک جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب تحریر کرتے ہیں۔جماعت کے چندہ میں معلم کے آنے سے قبل بقایا در بقایا تھا۔ان کے آنے سے اب %75 چندہ ادا ہو چکا تھا۔ان ہے جبکہ ابھی سال کے چار پانچ ماہ باقی ہیں۔“ ایک اور جماعت کے صدر اپنی جماعت میں معلم کی تقرری سے قبل اور بعد کا موازنہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔چندہ عام دوصد روپے صرف تھا۔اب 66-1965ء کا بجٹ جس میں حصہ آمد بھی شامل ہے دو ہزار روپے ہے۔:۔دوم :۔چونکہ معلمین کو تاکید کی جاتی ہے کہ نو مبائعین کو فوری طور پر جماعتی چندوں میں شامل کریں ورنہ ان کے ذریعے ہونے والی بیعتیں حقیقی بیعتیں شمار نہیں ہوں گی اس لیے جوں جوں مبائعین کی تعداد بڑھتی جاتی ہے چندوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اس ضمن میں ایک سیکرٹری مال نے جو عداد و شمار بھجوئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت کا چندہ عام کا کل سالانہ بجٹ 4907 روپے 40 پیسے ہے۔جس میں 1215 روپے بجٹ ان نو مبائعین کا ہے جو وقف جدید کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوئے۔یہی نہیں بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ اس بجٹ میں 725 روپے 50 پیسے کی وہ رقم بھی شامل ہونی چاہئے جو بعض نو مبائعین کی نقل مکانی کی وجہ سے دوسری جماعتوں میں منتقل کی گئی۔گویا چار ہزار نو سو سات روپے میں سے ایک ہزار نو سو چالیس روپے صرف نو مبائعین کا بجٹ ہے۔الحمد للہ علی ذلک۔“ ب) نماز باجماعت کا قیام: اس اہم دینی فریضہ کی سر انجام دہی میں معلمین کو خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ حیرت انگیز کامیابی ہو رہی ہے۔مختلف صدر صاحبان اور امرا کی طرف سے اس بارہ میں بیسیوں خوشنودی کا اظہار موصول ہو تے ہے۔مثال کے طور پر ایک بڑی جماعت کے صدر صاحب لکھتے ہیں: ”نماز باجماعت کے قیام میں معلم نے مختلف کوششوں کے طریق جاری رکھے۔مثلاً صبح نماز کے وقت گاؤں میں بلند آواز سے درود شریف پڑھنا۔معلم صاحب کے آنے سے پہلے تقریباً ساری جماعت ہی بے جماعت سمجھ لیں کیونکہ خاکسار اگر گھر پر ہوتا تو نماز ہو جاتی اگر خاکسار گھر پر نہ ہوتا تو نماز باجماعت نہ ہوتی لیکن محترم معلم صاحب کے آنے سے یہ بیماری دور ہو گئی اور باقاعدہ نماز باجماعت ہونے لگی اور پھر نماز باجماعت ہی نہیں بلکہ نماز تہجد با جماعت کا سلسلہ بھی جاری رہنے لگا اور اس دوران میں ایک ماہ سے اوپر مستقل نماز تہجد جاری 106