مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 105 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 105

خلافت راشدہ ثانیہ حقہ اسلامیہ اور استحکام خلافت: اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اس دور میں بھی قیام و استحکام خلافت کے وعدے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں موجود ہیں۔چنانچہ اس زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدرت ثانیہ یعنی خلافت راشدہ کے قیام و استحکام کی خوشخبری سنائی۔تحریک جدید کے ثمرات: دعاؤں، انابت الی اللہ، تزکیۂ نفس، اسلامی تمدن و طریق کے مطابق زندگی بسر کرنے یعنی تحریک جدید کی الہامی و انقلابی سکیم پر عمل کرنے سے جو ثمرات حاصل ہوئے اور مخالفت کے طوفانوں کا رُخ کس طرح تبدیل ہوا؟ اس کا بیان حضرت فضل عمر سے بہتر کون کر سکتا ہے؟ چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احرار میرے مقابل پر اٹھے، احرار کو بعض ریاستوں کی بھی تائید حاصل تھی کیونکہ کشمیر کمیٹی کی صدارت جو میرے سپرد کی گئی تھی اس کی وجہ سے کئی ریاستوں کو یہ خیال پید اہو گیا تھا کہ اس زور کو توڑنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ یہ کسی اور ریاست کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔۔۔۔۔احرار نے 1934 ء میں شورش شروع کی اور اس قدر مخالفت کی کہ تمام ہندوستان کو ہماری جماعت کے خلاف بھڑکا دیا۔اس وقت مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر میں نے ایک خطبہ میں اعلان کیا کہ تم احرار کے فتنہ سے مت گھبراؤ! خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دے گا کیونکہ خدا نے مجھے جس راستہ پر کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے، جو تعلیم مجھے دی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے اور جن ذرائع کو اختیار کرنے کی اس نے مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و بامراد کرنے والے ہیں۔اس کے مقابلہ میں زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں نکل رہی ہے اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں اتنی ہی نمایاں مجھے ان کی موت دکھائی دیتی ہے۔“ تحریک جدید کے مزید ثمرات: (الفضل 30 مئی 1935ء و سوانح فضل عمر“ جلد سوم۔صفحہ 295) اللہ کے فضل و کرم سے تحریک جدید کے ثمرات جاری وساری ہیں اور جماعت احمدیہ نے خلافت کے سایہ میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی ہے۔چنانچہ 30 جولائی 2005 ء کے جلسہ برطانیہ میں حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان ترقیات کے اعداد و شمار بیان فرمائے جو مختصراً تحریر ہیں: جماعت کا امسال تک نئے ممالک میں نفوذ = 181 ممالک کل بیوت الذکر کی تعداد = 13 ہزار 776 مساجد (صرف ایک سال میں 319 نئی مساجد ملی ہیں۔1984ء سے تا حال)۔تراجم قرآن کریم کل 60 زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔امسال 2005 ء میں 2 لاکھ سے زائد افراد جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔(الفضل 5 اگست 2005ء) 105