مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 104
بصیرت حاصل تھی اس لیے اس سلسلہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے بہت سے انتظامات کئے۔چنانچہ شام کی سرحد پر نہایت کثرت کے ساتھ فوجی چوکیاں قائم کیں۔40ھ میں جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عراق پر عام یورش کی تو پہلے انہی سرحدی فوجوں نے ان کو آگے بڑھنے سے روکا۔اسی طرح ایران میں مسلسل شورش اور بغاوت کے باعث بیت المال، عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے نہایت مستحکم قلعے بنوائے۔اس طرح کا قلعہ حصن زیاد اسی سلسلہ میں بنا تھا۔جنگی تعمیرات کے سلسلہ میں دریائے فرات کا پل بھی جو معرکہ صفین میں فوجی ضروریات کے خیال سے تعمیر کیا تھا لائق ذکر ہے۔“ (ب) ہمدردی خلق اور رعایا کے ساتھ شفقت: سیر صحابہ - جلد 1 صفحہ 306) " حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وجود رعایا کے لیے سایہ رحمت تھا، بیت المال کے دروازے غربا اور مساکین کے لیے کھلے ہوئے تھے اور اس میں جو رقم جمع ہوتی تھی نہایت فیاضی کے ساتھ مستحقین میں تقسیم کر دی جاتی ذمیوں کے ساتھ بھی نہایت شفقت آمیز برتاؤ تھا، ایران میں مخفی سازشوں کے باعث بار ہا بغاوتیں ہوئیں لیکن حضرت علیؓ نے ہمیشہ نہایت رحم سے کام لیا یہاں تک کہ ایرانی اس لطف و شفقت سے متاثر ہو کر کہتے تھے: خدا کی قسم! اس عربی نے نوشیرواں کی یاد تازہ کر دی۔“ (ج) عدل انصاف کا قیام: لپٹا ہوا ہے۔66 (سیر صحابہ - جلد 1 صفحہ 306) حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمدان سے باہر مقیم تھے کہ اسی اثنا میں آپ نے دو گروہوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے ان میں صلح کرا دی لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو کسی کی آواز آئی کہ کوئی خدا کے لیے مدد کو آئے۔پس آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے اس آواز کی طرف دوڑے حتی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے جوتوں کی آواز بھی آرہی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کہتے چلے جاتے تھے کہ ”مدد مدد آ گئی۔جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے سے جب اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو عرض کیا کہ: اے امیر المؤمنین: میں نے اس شخص کے پاس ایک کپڑا نو درہم کا بیچا تھا اور شرط یہ تھی کہ کوئی روپیہ مشکوک یا کٹا ہوا نہ ہو اور اس نے اس کو منظور کر لیا تھا لیکن آج جو میں اس کو بعض ناقص روپے دینے کے لیے آیا تو اس نے بدلانے سے انکار کر دیا، جب میں پڑا تو اس نے مجھے تھپڑ مارا آپ رضی اللہ عنہ نے مشتری سے کہا کہ اس کو روپے بدل دے۔پھر دوسرے شخص سے کہا کہ تھپڑ مارنے کا ثبوت پیش کر۔جب اس نے ثبوت دے دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے مارنے والے کو بٹھا دیا اور اس سے کہا کہ اس سے بدلہ لے۔اُس نے کہا اے امیر المؤمنین! میں نے اس کو معاف کر دیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مگر میں چاہتا ہوں کہ تیرے حق میں احتیاط سے کا م لوں۔معلوم ہوتا ہے وہ شخص سادہ تھا اور اپنے نفع نقصان کو نہیں سمجھ سکتا تھا اور پھر اس شخص کو سات کوڑے مارے اور فرمایا: اس شخص نے تو تجھے معاف کر دیا تھا لیکن یہ سزا حکومت کی طرف سے ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 262 تا 263) 104