مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 103
کیا گیا تھا، اس پر بلا تحقیق جوش میں آکر عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو قتل کر دیا وہ کہتا ہے: كَانَتِ الْعَجْمُ بِالْمَدِينَةِ يَسْتَرُوْحُ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ فَمَرَّ فِيُرُوزُ بِأَبِي وَمَعَهُ، خَنْجَرْلَهُ رَأْسَانِ فَتَنَاوَلَهُ مِنْهُ ۖ وَقَالَ مَا تَصْنَعُ بِهَذَا فِى هَذِهِ الْبَلَادِ؟ فَقَالَ أَبُسُّ بِهِ فَرَاهُ رَجُلٌ فَلَمَّا أَصِيبَ عُمَرُ قَالَ رَأَيْتُ هَذَا مَعَ الْهُرْمَزَانِ دَفَعَهُ إِلى فِيُرُوزَ فَأَقْبَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَتَلَهُ فَلَمَّا وُلِيَ عُثْمَانُ دَعَانِي فَا مُكَتَنِي مِنْهُ ثُمَّ قَالَ يَا بُنَيَّ هَذَا قَاتِلُ أَبِيكَ وَأَنْتَ اَوْلَی بِهِ مِنَّا فَاذْهَبُ فَاقْتُلُهُ فَخَرَجْتُ بِهِ وَمَا فِي الْاَرْضِ اَحَدٌ إِلَّا مَعِى إِلَّا إِنَّهُمْ يَطْلُبُونَ إِلَيَّ فِيْهِ فَقُلْتُ لَهُمْ إِلِى قَتْلُهُ قَالُوا نَعَمْ وَسَبُوا عُبَيْدَ اللهِ فَقُلْتُ اَفَلَكُمْ أَنْ تَمْنَعُوَاهُ قَالُوا لَا وَ سَبُّوْهُ فَتَرَكْتُهُ لِلَّهِ وَلَهُمْ ۖ فَلْتَمَلُوْنِي فَوَاللَّهِ مَا بَلَغْتُ الْمَنْزِلَ إِلَّا عَلَى رُءُ وُسِ الرِّجَالِ وَأَكُفِّهِـ ہے لیتا ہوں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایرانی لوگ مدینہ میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے (جیسا کہ قاعدہ ہے کہ دوسرے ملک میں جا کر وطنیت نمایاں ہو جاتی ہے ) ایک دن فیروز (قاتل عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی) میرے باپ سے ملا اور اس کے پاس ایک خنجر تھا جو دونوں طرف سے تیز کیا ہو اتھا۔میرے باپ نے اس خنجر کو پکڑ لیا اور اس سے دریافت کیا کہ اس ملک میں تو اس خنجر سے کیا کام لیتا ہے (یعنی یہ ملک تو امن کا ملک اس میں ایسے ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے) اُس نے کہا کہ: میں اس سے اُونٹ ہنکانے کا کام جب وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے اس وقت ان کو کسی نے دیکھ لیا اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مارے گئے تو اس نے بیان کیا کہ میں نے خود ہر مزان کو یہ خنجر فیروز کو پکڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔اس پر عبیداللہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بیٹے) نے جا کر میرے باپ کو قتل کر دیا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور عبید اللہ کو پکڑ کر میرے حوالے کر دیا اور کہا کہ: اے میرے بیٹے! یہ تیرے باپ کا قاتل ہے اور تو ہماری نسبت زیادہ حق رکھتا ہے۔پس جا اور اس کو قتل کردے۔میں نے اس کو پکڑ لیا اور شہر سے باہر نکلا۔راستہ میں جو شخص مجھے ملتا میرے ساتھ ہو جاتا لیکن کو ئی شخص مقابلہ نہ کرتا۔وہ مجھ سے صرف اتنی درخواست کرتے تھے کہ میں اسے چھوڑ دوں۔پس میں نے سب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کیا میرا حق ہے کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ سب نے کہا کہ ہاں تمہارا حق ہے کہ اسے قتل کر دو اور عبیدا اللہ کو برا بھلا کہنے لگے کہ اس نے ایسا برا کام کیا ہے۔پھر میں نے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کو حق ہے کہ اسے مجھ سے چھڑا لو؟ انہوں نے کہا کہ : ہرگز نہیں اور پھر عبید اللہ کو برا بھلا کہا کہ اس نے بلا ثبوت اس کے باپ کو قتل کر دیا۔اس پر میں نے خدا اور ان لوگوں کی خاطر اس کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں نے فرطِ مسرت سے مجھے اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا اور خدا تعالیٰ کی قسم میں اپنے گھر تک لوگوں کے سروں اور کندھوں پر پہنچا اور انہوں نے مجھے زمین پر قدم تک نہیں رکھنے دیا۔“ ( تفسیر کبیر جلد نمبر 2 صفحہ 359 تا360) (3) بطور خلیفہ راشد رابع حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کار ہائے نمایاں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کار ہائے نمایاں بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک نمونہ پیش خدمت ہیں: (۱) فوجی انتظامات: حضرت علی رضی اللہ عنہ خود ایک بڑے تجربہ کار جنگ آزما تھے اور جنگی امور میں آپ رضی اللہ عنہ کو پوری 103