خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 79 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 79

<^ میں انتہا کو پہنچ رہے تھے ، یک دم رُخ بدل کر روم کے بادشاہ سے مخاطب ہوئے اور یہ کہلا بھیجا کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ مسلمانوں میں اختلاف ہے اور اپنی کچلیوں کو ان پر آزمانے لگے۔وہ یادر کھے کہ اگر اس نے مملکت اسلامیہ پر حملہ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو حضرت علی کی طرف سے اس کے مقابلہ کے لئے نکلے گا وہ معاویہ ہو گا۔چنانچہ رومی بادشاہ، امیر معاویہ کی اس تنبیہہ سے خوفزدہ ہو کر اپنے ارادوں سے باز آ گیا اور اس طرح وہ شدید خوف امن میں بدل گیا۔پس یہ خلافت کا عظیم مقام تھا کہ امیر معاویہ جیسا شخص بھی خلیفۃ الرسول حضرت علی سے اپنے بنیادی اختلافات کے باوجود آپ پر قربان ہونے کے لئے تیار تھا۔بعینہ امت کے دور آخرین میں ہم نے خلافت کے ذریعہ خوف کو حیرت انگیز طور پر امن میں بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔تاریخ احمدیت اس پر شاہد ناطق ہے کہ جب بھی جماعت پر خوف و ہراس طاری کرنے کی کوشش کی گئی، خلافت کی برکتوں سے ہر طوفان صورت گرد بیٹھ گیا اور اسی ابتلاء میں جماعت مزید سرعت اور جوانمردی کے ساتھ عزم وحمد کے ایسے ترانے گاتے ہوئے ترقیات کے مدارج طے کرنے لگی۔کہے وہ اور ہوں گے جوئیل دریا میں ڈوب مرنے کی ٹھان بیٹھے ہم ایسی موجوں کی کشمکش میں بڑھا کئے ہیں بڑھا کریں گے ہمیں ڈراتا ہے دشتِ ہستی کے خارزاروں سے کیا زمانہ ہم ایسی راہوں پر مسکرا کر چلا کئے ہیں چلا کریں گے ۱۹۷۴ء کے حالات کسی سے مخفی ہیں؟ جب پاکستان کے طول و عرض میں احمدیوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔دشمنانِ احمدیت نے نہ صرف یہ کہ مخالفت کی آگ میں احمدیوں کے مکانوں، دوکانوں اور جائیدادوں کو جلایا بلکہ اس نے اسی آگ میں اپنے رشتہ ہائے ایمانی بھی بھسم کر دیئے۔جماعت کو مٹانے کے لئے ہر انسانیت سوز حربہ استعمال کیا گیا اور ہر وحشتناک چال چلی گئی۔لیکن دوسری طرف یہ نظارہ دیکھا گیا کہ وہ بیٹے جن کے باپ ان کی نظروں کے سامنے شہید کئے گئے تھے