خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 80 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 80

اور وہ باپ جن کے بیٹوں کو اُن کے رُو بروذ بح کیا گیا، جن کی متاع حیات دشمن کو نا امیدی کے دھوؤں میں تبدیل ہوتی نظر آتی تھی، وہ خلیفہ وقت سے ملے تو آنکھوں میں سکون و اطمینان کی آسودگی بھر گئی۔چہرے بشاشت سے کھل اُٹھے، ان کے خوف کی پر چھائیاں قرار کے رنگوں میں بدل گئیں اور زبانیں نغمات تشکر الاپنے لگیں کہ کیا ہوا جو سب مال و اسباب لٹ گیا ، متاع ایمان تو محفوظ رہی۔مومن کا یہی تو سرمایہ ہستی ہے کہ جس کے سامنے عزیز سے عزیز ترین چیز بھی بے حقیقت و بے بساط ہے۔خلافت کی اس غیر معمولی رحمت اور اس الہی سائبان کے بے بدل سایہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الرابع فرماتے ہیں: خلافت کا کوئی بدل ہی نہیں ہے۔ناممکن ہے کہ خلافت کی کوئی متبادل چیز ایسی ہو جو خلافت کی جگہ لے لے اور دل اسی طرح تسکین پا لیں۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء بمقام پیرس) یہ تو خلافت حلقہ سے وابستہ ان راسخ الایمان مومنوں کا حال تھا۔مگر خلیفہ وقت کے ساتھ خدا کا سلوک یہ تھا کہ وہ اپنے پاک الہام سے اسے یہ نوید دے رہا تھا کہ ” وَسِعْ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِيْنَ “ کہ تُو اپنے گھر کو وسیع تر کر۔خُدا استہزاء کرنے والے مخالفوں سے خود نپٹ لے گا۔پھر جلد ہی اس الہام کے عملی جلوے ظاہر ہونے لگے۔ایک طرف تو دشمنوں کی راہیں پاس و حرمان اور بدنصیبی و نا کامی کے کانٹوں سے اٹنے لگیں اور دوسری جانب فجر احمدیت پر ہزاروں شگوفے نکل آئے۔غیر احمدی احباب قافلوں کی صورت میں مرکز احمدیت ربوہ کی طرف رجوع کرنے لگے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے لگے۔مکانوں میں وسعت ہوئی۔مرکز سلسلہ میں ہر بڑی سے بڑی جگہ چھوٹی ہونے لگی۔افق پر چھائی ہوئی خوفناک خطرات کی دبیز گھٹائیں جلد ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی برکتوں اور رحمتوں کی موسلا دھار بارشوں میں تبدیل ہو گئیں۔پس خلافت جماعت مومنین کے لئے وہ قلعہ ہے جس کی فصیلیں خوف کی دسترس سے بلند تر