خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 78
22 تشنہ لبی کا شکار ہوتا ہے تو کبھی پھوٹتے ہوئے چشمے اس کی پیاس کا مداوا کرتے ہیں۔وہ قافلہ بھی سکون وقرار سے راہ سفر طے کرتا ہے، اور کبھی راہزنوں کا خوف بھی اسے بے چین کرتا دیتا ہے۔مذہبی زندگی بھی فطرت کی انہیں راہوں پر گامزن ہے۔کبھی پے در پے ترقیات جماعتِ مومنین کی ہمتیں بلند کرتی ہیں تو کبھی منافقوں کا نفاق اور دشمنوں کی ریشہ دوانیاں اُن کے دلوں میں خوف پیدا کر دیتی ہیں۔پیش رفت اور ترقی ، جانب بلندی رخ مثبت ہے جبکہ خوف و تنزل سمت منفی ہے اور جانب در ماندگی وشکست ڈھلوان ہے۔خلافت جماعت مومنین کو اس معیار مثبت سے نیچے نہیں جانے دیتی۔یہ اسے معیار مثبت سے آگے، اوپر اور اونچار کھنے کا الہی نظام ہے۔خلافت ایسی نعمت عظمی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جماعت کی ہر خوف کی حالت امن اور اطمینان میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔کسی بھی خوف سے اس کی ہمتیں ٹوٹتی نہیں بلکہ وہ منضبط ہو کر ایک نئی طاقت اور جذبہ کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔خلافت راشدہ کے زمانہ میں امت مسلمہ پر خوف کے عجیب وغریب حالات پیدا ہوئے اور مومنوں کا ہر خوف خلافت سے وابستگی کے سبب دور ہوتا گیا۔ان بیسیوں واقعات کے علاوہ تاریخ اسلام میں ایک حیرت انگیز واقعہ یہ بھی رونما ہوا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کا کر بناک واقعہ پیش آیا تو امت مسلمہ لرزگئی مگر خدا تعالیٰ نے حضرت علی کو خلافت عطا کر کے اُمت کی ڈھارس بندھائی۔لیکن ابھی آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے ہی تھے او منافقین کا فتنہ دبتا ہوا نظر آتا تھا کہ خوف کی ایک اور آندھی امیر معاویہ کی صورت میں اُٹھی۔ایک خوف دور ہوا تو دوسرے میں تلواروں کی جھنکار سنائی دینے لگی۔تلواروں کی اسی جھنکار میں حضرت علیؓ سے حضرت عثمان کے قاتلوں کی سزا کا مطالبہ شدت کے ساتھ ساتھ وحشت بھی اختیار کرنے لگا تو خدا کی تقدیر خلافت کے ذریعہ اس خوف کو دور کرنے کے لئے اس طرح جاری ہوئی کہ امت مسلمہ کے لئے ایک اور خوف کی صورت پیدا کر دی گئی۔اور وہ یہ تھی کہ سلطنت روم کا عیسائی بادشاہ مسلمانوں میں خوف و ہراس اور انتشار دیکھ کر اسلامی مملکت پر حملہ کے لئے تلواروں کو آب دینے لگا۔اس کی خبر پانے پر وہی معاویہ جو حضرت علی کی مخالفت