خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 66
واقع جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت ام کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دیئے اور خلیفوں کی شہادت بعینہ آنحضرت ٹیم کی شہادت متصور ہوئی اور اس طرح پر مضمونِ آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ بِر یک پہلو سے درست ہو گیا۔غرض شہادت دائگی کا عقیدہ جو نص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلّم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائگی کو قبول کیا جائے۔“ حضرت خلیہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۳) ” خلیفہ اپنے پیش رو کے کام کی نگرانی کے لئے ہوتا ہے۔“ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انوارالعلوم جلد ۲ صفحہ ۱۳) یعنی نبی کی نبوت جس قسم کی ہوگی ، اس کا خلیفہ بھی اسی نوع کی خلافت کے ساتھ اس کی جانشینی کرے گا۔اس میں اپنے پیش رو نبی ہی کی برکات منعکس ہوں گی۔برکات نبوت کو ظنی طور پر خلافت میں جاری ہونے کے اس عرفان کو ایک اور زاویہ سے واضح کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس آیت ( یعنی آیت استخلاف۔ناقل ) کے ماتحت جس قسم کی خلافت آنحضرت ﷺ کے بعد ہوئی ، وہی خلافت راشدہ ہے اور اسی قسم کی خلافت مسیح موعود کے بعد ہونی ضروری ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں مسیح موعود کی نسبت فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (الجمع: