خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 65
۶۴ وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں ،ظلمی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانے میں برکاتِ رسالت سے محروم نہ رہے۔پس جو شخص خلافت کو صرف تمیں برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہر گز نہیں تھا کہ رسول کریم کی وفات کے بعد صرف تمہیں برس تک رسالت کی برکتوں کو خلیفوں کے لباس میں قائم رکھنا ضروری ہے۔پھر بعد اس کے دنیا تباہ ہو جائے تو ہو جائے، کچھ پرواہ نہیں۔بلکہ پہلے دنوں میں تو خلیفوں کا ہونا بجز شوکتِ اسلام پھیلانے کے کچھ اور زیادہ ضرورت نہیں رکھتا تھا۔کیونکہ انوار رسالت اور کمالات نبوت تازہ بتازہ پھیل رہے تھے اور ہزار ہا معجزات بارش کی طرح ابھی نازل ہو چکے تھے اور اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اس کی سنت اور قانون سے یہ بھی بعید نہ تھا کہ بجائے ان چار خلیفوں کے اس تمیں برس کے عرصہ تک آنحضرت ﷺ کی عمر کو ہی بڑھا دیتا۔“ پھر اسی مضمون کو مزید کھولتے ہوئے فرمایا : دو شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۴،۳۵۳) اللہ جل شانہ نے اسلامی امت کے کل لوگوں کے لئے ہمارے نبی ٹیم کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ اور فرمایا وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت ام صرف تئیس برس تک اپنی امت میں رہے۔پھر یہ سوال کہ دائی طور پر وہ اپنی امت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں۔یہی