خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 67
۶۶ ۴،۳) خدا ہی ہے جس نے امتیوں میں ایک رسول بھیجا جو انہی میں سے ہے اور جوان پر خدا کا کلام پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور بے شک اس سے پہلے وہ کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور وہ رسول ایک اور قوم کو بھی سکھائے گا جو ابھی تک ان سے نہیں ملی اور خدا تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے زمانہ کو آنحضرت ام کے زمانہ سے تشبیہہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ ایک دفعہ تو آنحضرت سلم نے صحابہ کی تربیت کی ہے اور ایک دفعہ وہ پھر ایک اور قوم کی تربیت کریں گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔پس مسیح موعود کی جماعت کو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مشابہ قرار دے کر بتا دیا ہے کہ دونوں میں ایک ہی قسم کی سنت جاری ہوگی۔پس جس طرح آنحضرت ام کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوا ضرور تھا کہ مسیح موعود کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں صاف لکھ دیا ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد ابوبکر کے ذریعہ دوسری قدرت کا اظہار ہوا ضرور ہے کہ تم میں بھی ایسا ہی ہو اور اس عبارت کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے بعد سلسلہ خلافت کے منتظر تھے۔“ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انوارالعلوم جلد ۲ صفحہ ۳۱،۱۲۱) جماعت مسیح موعود علیہ السلام میں خلافت کے قیام کو ثابت فرما کر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سورۃ الجمعہ کی مذکورہ بالا آیات کا ذکر کر کے ان میں بیان فرمودہ برکات کے بارہ میں فرماتے ہیں: انبیاء علیہم السلام کے اغراض بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا