خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 59
۵۹ تھے کہ کسی طرح خلیفہ وقت انجمن کے تحت ہو جائے۔یعنی وہ ان کے دفتر کے ماتحت ہو اور اصل اقتدار انجمن کا یعنی ان کا اپنا ہو۔اسی کے لئے وہ خلافت ثانیہ کے انتخاب میں تاخیر کے لئے کوشاں تھے تا کہ جماعت کچھ عرصہ تک انجمن کے انتظام کے تحت رہنے کی عادی ہو جائے گی تو پھر خلیفہ کے انتخاب کی ضرورت نہ رہے گی لہذا جماعت پر ان کا اقتدار قائم ہو جائے گا۔عین اس وقت جب صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ) ان کو خلیفہ بن جانے اور خود ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی پیشکش کرتے ہیں تو وہی مولوی محمد علی صاحب اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔حالانکہ یہی اُن کے لئے نادر موقع تھا کہ اگر وہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی اس پیشکش کو قبول کر لیتے تو انہیں ان کے خوابوں کی تعبیر اور جد وجہد کی منزل مل جاتی اور وہ جماعت احمدیہ کے امام بن جاتے۔لیکن ایک حتمی اور فیصلہ کن گھڑی میں مولوی محمد علی صاحب کا جماعت کا امام بننے سے پہلو تہی کر جانا خدا تعالیٰ کے اس تصرف کی پختہ ترین دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے خو دخلیفہ بناتا ہے۔اور وہ سبز چڑیا اسی کے سر پر بیٹھتی ہے جس پر بیٹھنے کا اسے اذن ہوتا ہے۔اس کے برعکس جسے اللہ تعالیٰ اس کا اہل نہیں سمجھتا، لوگ کوشش بھی کریں تو اس کے لب تک لائے ہوئے پیالہ کو اس کے منہ سے نہیں لگا سکتے۔