خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 58
۵۸ کسی امر کو طے نہیں کرتے اور جماعت اس وقت بغیر کسی رئیس کے ہے۔تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ بہتر ہے کہ باہر چل کر جولوگ موجود ہیں ان سے مشورہ لے لیا جائے۔اس پر مولوی محمد علی صاحب کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ آپ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ لوگ کسے منتخب کریں گے۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ نہیں میں تو فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔مگر اس پر بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں۔آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا رائے ہے یعنی وہ آپ کو خلیفہ مقرر کریں گے۔اس پر میں اتفاق سے مایوس ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا منشا کچھ اور ہے۔کیونکہ باوجود اس فیصلہ کے جو میں اپنے دل میں کر چکا تھا میں نے دیکھا کہ یہ لوگ صلح کی طرف نہیں آتے اور مولوی محمد علی صاحب کی مخالفت خلافت سے بوجہ خلافت کے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کے خیال میں جماعت کے لوگ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے۔“ (حیات نور صفحہ ۷۲۸ تا ۷۳۰ مطبوعہ ۱۹۶۳ء پنجاب پر یس وطن بلڈنگ لا ہور *) یہ واقعہ تاریخ اسلام کا ایک اہم ترین واقعہ ہے جو واقعاتی لحاظ سے ایک نا قابلِ تردید اور قطعی ثبوت مہیا کرتا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔مولوی محمد علی صاحب جو حضرت خلیفہ مسیح الا ول کی زندگی میں ہی جماعت کے انتظام و انصرام اور اختیار و اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینے کی سر توڑ کوشش کرتے رہے تھے اور ایک مہم کے طور پر اپنے اخبار ” پیغام کے ذریعہ اور اشتہارات اور ٹریکٹوں کی اشاعت کے ساتھ مسلسل جد و جہد میں ( اس واقعہ کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے ” خلافتِ راشدۀ ( انوار العلوم جلد ۱۵ صفحہ ۴۹۷ تا ۵۰۱) میں اور اپنی تصنیف " اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات (صفحہ ۱۲۲ تا ۱۲۴ مطبوعہ الشركة الاسلامیہ ربوہ ) اور اپنے درس القرآن میں بھی بیان فرمائی ہے۔)