خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 49
۴۹ اس سے بھی بڑھ کر وہ تائید و نصرت الہی ہے جو خدا تعالیٰ اپنے قائم کردہ خلیفہ کو عطا کرتا ہے۔یہ وہ موہبت ہے جو خاص طور پر نبوت کے ساتھ مخصوص ہے۔خلیفہ راشد چونکہ خلقی طور پر انوار رسالت اور برکات نبوت کا حامل ہوتا ہے۔اس لئے اس کے شامل حال بھی اللہ تعالیٰ کے وہی وعدے ہوتے ہیں جو ان آیات میں بیان فرمائے گئے ہیں کہ " كَتَبَ اللَّهُ لَاغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي“ (الجادلہ: ۲۲) کہ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ ضرور میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔اور إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔(المؤمن: ۵۲) کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے ، اس دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے کئے جائیں گے۔دراصل یہی وہ امتیازات ہیں جو خلیفہ راشد کو ہر دوسرے صاحب منصب اور صاحب صفات شخص سے ممتاز کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔یہ امتیازی نشان کسی ایسے شخص کو نصیب نہیں ہوتے ، جسے خدا تعالیٰ قائم نہیں کرتا خواہ اسے دنیا کی تمام طاقتیں مل کر بھی خلیفہ قرار دے دیں۔جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی اپنی رضا نہ ہو وہ ان لوگوں کے مقرر کردہ ایسے فرد کی تائید کرنے کا کس طرح پابند ہوسکتا ہے۔خلیفہ راشد کے امتیازات : خدا تعالی کے قائم کردہ ان مذکورہ بالا امتیازات اور خصوصیات سے مختص خلیفہ راشد کی اس امتیازی شان کا ذکر کرتے ہوئے خلیفتہ اسیح الثانی بیان فرماتے ہیں: ” اسلام میں خلافت راشدہ کے مجموعی امتیازات سات ہیں:۔اول : انتخاب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤْدُّوا الْآمَنَتِ إلى أَهْلِهَا۔(النساء : ۵۹) یہاں امانت کا لفظ ہے لیکن ذکر چونکہ حکومت کا ہے اس لئے امانت سے مراد امانت حکومت ہے۔آگے طریق انتخاب مسلمانوں پر چھوڑ دیا۔چونکہ خلافت اُس وقت سیاسی تھی مگر اس کے ساتھ