خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 50
مذہبی بھی ، اس لئے دین کے قائم ہونے تک اُس وقت کے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انتخاب صحابہ کریں کہ وہ دین اور دیندار کو بہتر سمجھتے تھے۔ورنہ ہر زمانہ کے لئے طریق انتخاب الگ ہوسکتا ہے۔اگر خلافت صحابہ کے بعد چلتی تو اس پر بھی غور ہو جاتا کہ صحابہ کے بعد انتخاب کس طرح ہوا کرے۔بہر حال خلافت انتخابی ہے اور انتخاب کے طریق کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر چھوڑ دیا ہے۔دوم۔شریعت : خلیفہ پر اوپر سے شریعت کا دباؤ ہے وہ مشورہ کو رڈ کر سکتا ہے مگر شریعت کو رد نہیں کرسکتا۔گویاوہ کانسٹی ٹیوشنل ہیڈ ہے، آزاد نہیں۔سوم شوری : اُوپر کے دباؤ کے علاوہ نیچے کا دباؤ بھی اس پر ہے یعنی اسے تمام اہم امور میں مشورہ لینا اور جہاں تک ہو سکے اس کے ماتحت چلنا ضروری ہے۔چہارم۔اندرونی دباؤ یعنی اخلاقی : علاوہ شریعت اور شوری کے اس پر نگران اس کا وجود بھی ہے کیونکہ وہ مذہبی رہنما بھی ہے اور نمازوں کا امام بھی۔اس وجہ سے اس کا دماغی اور شعوری دباؤ اور نگرانی بھی اسے راہِ راست پر چلانے والا ہے جو خالص سیاسی منتخب یا غیر منتخب حاکم پر نہیں ہوتا۔پنجم۔مساوات : خلیفہ اسلامی انسانی حقوق میں مساوی ہے جودُ نیا میں اور کسی حاکم کو حاصل نہیں۔وہ اپنے حقوق عدالت کے ذریعہ سے لے سکتا ہے اور اس سے بھی حقوق عدالت کے ذریعہ سے لئے جاسکتے ہیں۔