خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 48 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 48

۴۸ خلیفہ راشد رسول تو نہیں ، مگر خدا تعالیٰ چونکہ اسے ظلمی طور پر انوار و برکاتِ رسالت سے مزین کرتا ہے اور اسے نبی کے کمالات کا مظہر بناتا ہے۔اس لئے اس کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا وہی سلوک ہوتا ہے جس کا وعدہ وہ اپنے نبی کے ساتھ کرتا ہے۔یہی خلافت علی منہاج النبوۃ ہے اور یہ وہ معیار اور کسوٹی ہے جو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کو خالصۂ خدا تعالیٰ کا انتخاب ثابت کرتی ہے۔ثبوت کے ساتھ کئے گئے اس وعدہ کو خدا تعالیٰ اس طرح پورا فرماتا ہے کہ اپنے قائم کردہ خلیفہ کی نبوت کے اظلال کے طور پر خود تائید و نصرت فرماتا ہے۔نہ صرف اس خلیفہ پر بلکہ وہ اس پر ایمان رکھنے والے مومنوں پر بھی اپنی تائید و نصرت کا سائبان تان دیتا ہے۔یہ ایک ایسی الگ اور نمایاں شان ہے جو صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کو عطا ہوتی ہے۔اس بناء پر ایسا انتخاب خدا تعالیٰ کا انتخاب قرار پاتا ہے۔اور حتمی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اس انتخاب کی ایک مثال حضرت علی نے بھی فراہم فرمائی۔آپ نے امیر معاویہ کو اپنی خلافت کی دلیل دیتے ہوئے لکھا: إِنَّهُ بَايَعَنِى الْقَوْمُ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ عَلَى مَا بَايَعُوهُمْ عَلَيْهِ “ کہ میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے جنہوں نے ابوبکر، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی اور انہی اصولوں پر کی ہے جن پر ان تینوں کی بیعت کی تھی۔اور آگے فرمایا: فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَّسَمُّوْهُ إِمَامًا كَانَ ذَلِكَ لِلهِ رِضی۔کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر کسی ایک شخص کے ہاتھ پر جمع ہو جاتے ہیں اور اسے اپنا امام تسلیم کر لیتے ہیں تو خدا کی رضا اُس (امام) کے شامل حال ہو جاتی ہے۔نہج البلاغہ مشہدی صفحہ ۱۸۸ من کتاب له الی معاویہ ونہج البلاغہ جلد ۲ صفحہ ۷ مطبوعہ مصر ) یعنی یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان، اعمالِ صالحہ اور اپنے تقوی وطہارت کے لحاظ سے اس معیار پر قائم ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مرضی، خدا تعالیٰ کی رضا اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کا وعدہ ان میں پورا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ رضا اس کی طرف سے ان کے انتخاب کی تصدیق ہے۔ان کے چھنے ہوئے امام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مرضی اور اس کی رضا شاملِ حال ہو جاتی ہے۔رضائے الہی وہ امتیازی نشان ہے جسے کوئی شخص اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتا۔لیکن