خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 43
۴۳ M جہانتک پہلی بات کا تعلق ہے تو اس پہلو سے خلیفہ حیثیتِ بشر ” إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ “ ہی کا مصداق ہے۔یعنی وہ تخلیق کے لحاظ سے عام انسانوں میں سے ایک انسان ہی ہوتا ہے۔اور بشریت کے لحاظ سے دیگر انسانوں سے کوئی الگ یا ممتاز حیثیت نہیں رکھتا۔دوسرے پہلو کا جواب یہ ہے کہ دیگر سب منصب اور فضیلتیں ایسی ہیں جن کو ختم کرنے کا اختیار خود اس شخص کو بھی ہوتا ہے جو اس کا حامل ہے یا پھر دوسرے اس سے وہ منصب یا فضیلت واپس لینے کا اختیار رکھتے ہیں۔مگر جب ہم خلافت کو ایک منصب قرار دے کر کہتے ہیں کہ یہ منصب خدا تعالیٰ عطا کرتا ہے تو پھر نبوت کے خلق ہونے کی وجہ سے کوئی دوسرا اس منصب کو واپس لینے کی طاقت نہیں رکھتا ، نہ ہی وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے خلیفہ راشد بنایا ہو خود اس عطا کو واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت عثمان نے منافقین کی طرف سے معزولی کے گمراہ گن مطالبہ کو انتہائی استقلال سے رڈ کیا اور فرمایا: 66 مَا كُنْتُ لِاخْلَعَ سِرْبَالًا سِرْبَلَنِيْهِ اللَّهُ تَعَالَى “ تاریخ الطبرى ذكر الخبر عن قتل عثمان - ۳۵ھ) کہ میں وہ لباس کس طرح اتار سکتا ہوں جوخود اللہ تعالی نے مجھے پہنایا ہے۔اسی طرح حضرت حکیم نورالدین خلیفہ اسیح الاول نے بھی بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان فرمایا : ” مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے۔۔۔۔۔خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔خدا تعالیٰ نے معزول کرنا ہوگا تو مجھے موت دے گا۔تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کر دو تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(الحکم ۲۱ جنوری ۱۹۱۴) پس یہ ایک ایسی امتیازی خصوصیت ہے جو خلافت کے منصب کو دیگر تمام منصبوں اور فضیلتوں سے اس وجہ سے ممتاز کرتی ہے کہ کوئی اس سے یہ عطا واپس نہیں لے سکتا۔جہانتک تیسرے پہلو کا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ صفت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ