خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 42 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 42

۴۲ صفات بھی خدا تعالیٰ ہی کی عطا ہیں۔وہی کسی کو انتظامی صلاحیت اور اختیارات ودیعت کر کے اسے دوسروں کا انتظام و انصرام عطا کرتا ہے۔عام انسان خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صفات کے مد نظر اپنے ہر منصب کو محض خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا قرار دے کر اس کے فضلوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے۔مثلاً ایک سائنسدان کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ سائنسدان بنا ہے۔کوئی ڈاکٹر ہو یا افسر، وہ یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ مقام عطا کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔یعنی انسان کو ہر خوبی توفیق اور منصب خدا تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور ان صفات کی بناء پر اسے کوئی منصب نصیب ہوتا ہے تو وہ خدا تعالی ہی کی عطا ہوتا ہے۔وہ کسی کو بادشاہ بنا کر فرمانراوئی عطا کرتا ہے تو کسی کو وزیر بنا دیتا ہے۔کسی کو اموال میں کثرت عطا کر کے اسے دوسروں پر فضیلت بخشتا ہے تو کسی کو تجارتوں اور جائیدادوں کا مالک بنا کر اسے معاشرہ میں مالی لحاظ سے بلند مقام نصیب فرماتا ہے۔قرآنِ کریم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر نعمت اور فضیلت جو انسان کو عطا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔اگر اسی طرح خلافت کا قیام خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس زاویہ سے بھی اس کی انسانوں کے دیگر منصبوں ،فضیلتوں اور عطاؤں پر بظاہر کوئی امتیازی حیثیت معلوم نہیں ہوتی۔اگر ایسا ہے تو پھر ہم خاص طور پر یہ کیوں کہتے ہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے؟۔تیسری صورت یہ ہے کہ اگر خلافت کو ایک صفت قرار دیا جائے۔اس صورت میں بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ تمام انسانوں کو ہر قسم کی صفات کی عطا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہی منسوب ہوتی ہے۔ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی خاص صفت سے نوازا ہوتا ہے۔دنیا میں ایک سے ایک بڑھ کر صفات کا حامل انسان پایا جاتا ہے۔اگر عملاً ایسا ہے تو پھر ہم خاص طور پر خلیفہ کے لئے یہ کیوں کہتے ہیں کہ اسے خدا تعالیٰ نے بنایا ہے یا قائم کیا ہے؟ یہ تین پہلو ہیں جو اس مسئلہ پر تجزیاتی بحث کے متقاضی ہیں۔ان کے صحیح اور درست منظر کھل جائیں تو اس اعتقاد، عقیدہ اور ایمان پر تسلی ہوتی ہے کہ خلافت کو اللہ تعالیٰ ہی قائم فرماتا ہے اور خلیفہ بھی اس کے سوا اور کوئی نہیں بنا سکتا۔