خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 44 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 44

۴۴ اپنے قائم کردہ خلیفہ کے اندر مختلف صفات رکھتا ہے جن کی نشاندہی اس نے بنیادی طور پر آیت استخلاف میں کی ہے۔مثلاً وہ حصارِ ایمان اور اعمالِ صالحہ کی سند ہے۔وہ تمکنت دین اور استحکام اسلام کا ذریعہ ہے۔وہ امن کی ضمانت ہے۔وہ عبادت کے قیام اور شرک سے بچاؤ کی سبیل ہے۔اطاعتِ رسول ، قيام صلوۃ ، ایتائے زکوۃ اور رحمت خداوندی کا امین ہے۔وہ باطل کے مقابلہ پر سپر ہے۔وغیرہ وغیرہ وہ علامات ہیں جو آیت استخلاف اور اس سے منسلک آیات سے ماخوذ ہیں۔علاوہ ازیں اس کی دیگر صفات جو مختلف ماخذوں سے معلوم ہوتی ہیں ، یہ ہیں کہ وہ انوار و برکات نبوت کا عکاس ہے۔وہ یکجہتی اور اتحاد کی وجہ ہے۔وہ مومنوں کا محبوب ومطاع ہے۔وہ قلوب مومنین پر نزولِ ملائکہ کا سبب ہے۔وہ تجدید دین کا ذمہ دار ہے اور قبولیت دعا کا وسیلہ ہے۔وغیرہ وغیرہ یہ ایسی غیر معمولی اور ممتاز صفات ہیں جن سے ایک خلیفہ راشد متصف ومزین ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ صفات نہ انسان اپنی جد و جہد، مجاہدوں اور ریاضتوں سے حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ انہیں خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور سر چشمہ سے پا سکتا ہے۔مثلاً فرشتوں کا بھیجنا صرف اور صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اور وہ نبی کے بعد خلیفہ راشد کے ذریعہ مومنوں پر اترتے ہیں۔چنانچہ جب حضرت عثمان کے خلاف منافق اٹھے تو حضرت عبداللہ بن سلام نے انہیں تنبیہہ کی کہ خلافت کا وجود تائید وعونِ ملائکہ کا سبب ہے۔فرمایا: وو اگر تم نے ( حضرت عثمان) کو قتل کیا تو وہ تلوار جو اس وقت نیام میں ہے، بے نیام ہو جائے گی اور پھر وہ قیامت تک نیام میں نہ جاسکے گی۔اگر تم نے (حضرت عثمان ) کو قتل کیا ( اور خلافت کے نظام کو پامال کرنے کی کوشش کی تو یا درکھنا کہ مدینہ جس کو اللہ تعالیٰ کے فرشتے گھیرے ہوئے ہیں وہ مدینہ چھوڑ جائیں گے۔6 (طبری۔ذکر الخبر عن قتل عثمان بن عفان ۳۵ھ) اسی طرح دعاؤں کا سننا اور انہیں قبولیت کا شرف بخشنا بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اور وہ خلیفہ راشد کی دعائیں بھی امتیازی طور پر قبول فرماتا ہے اور اس کے وسیلہ سے مومنوں کی