خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 431 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 431

گزاریں۔۴۲۷ اس دور میں یعنی ۱۹۸۴ء کی جو شرارت ہے اس میں ایک مکمل سکیم کے تابع پاکستان میں جماعت احمدیہ کے مرکز کو ملیا میٹ کرنے کا ارادہ تھا اور جماعت احمدیہ کی ہر اُس انسٹی ٹیوشن، ہر اس تنظیم پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ تھا جس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے ایسے قانون بنائے جن کے نتیجہ میں خلیفہ وقت پاکستان میں رہتے ہوئے خلافت کا کوئی بھی فریضہ سرانجام نہیں دے سکتا۔۔۔۔خلیفہ وقت اگر پاکستان میں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ بھی کہے تو حکومت کے پاس یہ ذریعہ موجود ہے اور وہ قانون موجود ہے جس کو بروئے کار لا کر وہ اسے پکڑ کر تین سال کے لئے جماعت سے الگ کر سکتے ہیں اور یہی نیت تھی اور ابھی بھی ہے۔چنانچہ میرے آنے سے پہلے دو تین دن کے اندر جو واقعات ہوئے ہیں اُن کا اس وقت تو ہمیں پورا علم نہیں تھا کیونکہ خدا کی تقدیر نے خاص رنگ میں میرے باہر بھجوانے کا انتظام فرمایا۔۔یہ خلافت کے قلع قمع کی ایک نہایت بھیانک سازش تھی جس کی پہلی کڑی یہ سوچی گئی تھی کہ خلیفہ وقت اگر اپنے آپ کو کسی طرح بھی مسلمان ظاہر کرے تو فوری طور پر قید کر کے تین سال کے لئے جماعت سے الگ کر دیا جائے۔۔۔آرڈر یہ تھے کہ اگر یہ خطبہ دے ( آرڈینینس کے دوسرے دن جمعہ تھا ) تو خطبہ چونکہ ایک اسلامی کام ہے اور صرف اسی بہانے پر اس کو پکڑا جا سکتا ہے کہ تم خطبہ دے کر مسلمان بنے ہو۔تشہد پڑھا ہے، اس کے نتیجہ میں پکڑا جا سکتا ہے۔اگر خطبہ دے تو تب پکڑو اور اگر خطبہ نہ دے تو پھر کوئی بہانہ تلاش کرو۔اور اگر ربوہ کی کسی ایک بھی مسجد میں اذان ہو جائے یا