خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 432
۴۲۸ کوئی اور بہانہ مل جائے تو تب بھی اس کو پکڑ لو۔اور آخری آرڈر یہ تھا کہ اگر کوئی بہانہ نہ بھی ملے تو بہانہ تراشو اور پکڑو۔مُرادی تھی کہ خلیفہ وقت اگر ربوہ میں رہے تو ایک مُردہ کی حیثیت سے وہاں رہے اور اپنے فرائض منصبی میں سے کوئی بھی نہ ادا کر سکے۔اگر وہ ایسا کرنے پر تیار ہو یعنی ایک مُردہ کی طرح زندہ رہنے پر تیار ہو تو ساری جماعت کا ایمان ختم ہو جائے گا۔ساری جماعت یہ سوچے گی کہ خلیفہ وقت ہمیں تو قربانیوں کی طرف بلا رہا ہے، ہمیں تو کہتا ہے کہ اسلام کا نام بلند کرو اور خود ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا۔چنانچہ یہ جماعت کے ایمان پر حملہ تھا اور اگر خلیفہ وقت جماعت کا ایمان بچانے کے لئے بولے تو اس کو تین سال کے لئے جماعت سے الگ کر دو، چونکہ جماعت ایک نظام کی وجہ سے خلیفہ کا انتخاب کر ہی نہیں سکتی جب تک کہ پہلا خلیفہ مر نہ جائے ، اُس وقت تک اس لحاظ سے تین سال کے لئے جماعت اپنی مرکزی قیادت سے محروم رہ جائے گی۔جس جماعت کو خلیفہ وقت کی عادت ہو، جو نظام خلیفہ کے محور کے گردگھومتا ہواس کو کبھی بھی خلیفہ کی عدم موجودگی میں کوئی انجمن نہیں سنبھال سکتی۔۔۔۔۔خلافت کا کوئی بدل ہی نہیں ہے۔ناممکن ہے کہ خلافت کی کوئی متبادل چیز ایسی ہو جو خلافت کی جگہ لے لے اور دل اسی طرح تسکین پالیں۔تو تین سال کا عرصہ جماعت سے خلافت کی علیحد گی اس حال میں کہ کوئی رابطہ قائم نہ رہ سکے، یہ اتنی خوفناک سازش تھی کہ اگر خدانخواستہ یہ عمل میں آجاتی تب آپ کو اندازہ ہوتا کہ کتنا بڑا حملہ جماعت کی مرکزیت پر کیا گیا ہے۔ساری دنیا کی جماعتیں بے قرار ہو جاتیں اور ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہ رہتا ، کچھ سمجھ نہ آتا کہ کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنا ہے اور پھر ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬