خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 30
الْاَوْلِيَاءِ لَا وَليَّ بَعْدِى إِلَّا الَّذِي هُوَمِنِّي وَ عَلَى عَهْدِى“ (خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۷۰،۶۹) ترجمہ: میں اسی طرح ولایت کے مقام ختم پر فائز ہوں جس طرح میرے آقا حضرت محمد مصطفی روی یکم نبوت کے مقام ختم پر فائز تھے۔آپ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔اب میرے بعد کوئی ولی نہیں بجز اس کے جو میرا ہو اور میرے طریق پر ہو۔خاتم الخلفاء کا منصب اس حقیقت و معرفت کا عکاس ہے کہ نہ صرف امت میں روحانی خلفاء کے آپ خاتم ہیں بلکہ تمام امتوں کے خلفاء سے بھی افضل ہیں اور خلافت کا بلند ترین تصو ر آپ کی ذات پر ختم ہے، آپ کا مقام اس منصب کی معراج ہے۔خلافت نوت یہ خلافت کا وہ منصب ہے جو نبی کے بعد نبی کے ظل میں اس کے کمالات وانوار اور برکات کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔اس میں پھر آگے حسب ذیل اقسام ظاہر ہوتی ہیں۔ل خلافت راشده: یہ خلافتِ نبوت کی سب سے اعلیٰ ، اولی اور اول نوع ہے جو علی منہاج النبوۃ قائم ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ مومنوں سے اس کے قیام کا وعدہ فرماتا ہے اور اس کو خود قائم فرماتا ہے۔اپنی تائید و نصرت اس کے شامل حال کرتا ہے اور اس کی خاص علامات کے ساتھ اسے باقی خلافتوں سے ممتاز کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی امتیازی علامات سورۃ النور میں آیت استخلاف میں بیان فرمائی ہیں۔وہ اس کے ذریعہ کمالات و برکات اور انوار نبوت ظاہر فرماتا ہے اور امت میں اس کے فیوض جاری رکھتا ہے۔خلافت کی اس نوع میں روحانی انواع خلافت کی تمام خوبیاں، صفات اور تاثیرات پائی جاتی ہیں۔لہذا یہ تم اپنے منصب اور نام کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔اس زیر مطالعہ کتاب میں بنیادی طور پر خلافت کی اسی اعلیٰ اور اولیٰ قسم یعنی خلافت علی منہاج النبوۃ کے متفرق مضامین کو پیش کیا گیا ہے اور اس میں مذکور تمام بحثیں دراصل اسی سے متعلق ہیں۔