خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 29
۲۹ خلافت بھی پہلے انبیاء کی خلافت سے افضل تھی۔“ حضرت سید محمد اسمعیل شہید بیان فرماتے ہیں : خلافت را شده ، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۶۲) ی بھی امر ظا ہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی خلافت، خلافتِ 66 را شدہ سے افضل انواع میں سے ہوگی۔“ منصب امامت از حضرت سید محمد اسمعیل شہید ( مترجم ) صفحه ۸۲، ۸۳ مطبوعه ۱۹۴۹ء نا شرحکیم محمدحسین مومن پورہ لاہور ) اس کی تائید و تصدیق حضرت سید عبد القادر جیلانی کے قول سے ہوتی ہے جو حضرت امام عبدالرزاق قاشانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب شرح فصوص الحکم میں مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں درج کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں : وو الْمَهْدِيُّ الَّذِي يَجِيُّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فَإِنَّهُ يَكُوْنُ فِي الْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ تَابِعاً لِمُحَمَّدٍ ﷺ وَفِي الْمَعَارِنِ وَالْعُلُوْمِ وَ الْحَقِيْقَةِ تَكُوْنُ جَمِيعُ الْأَنْبِيَاءِ وَ الْأَوْلِيَاءِ تَابَعِيْنَ لَهُ كُلُّهُمْ۔۔۔۔۔۔لِاَنَّ بَاطِنَهُ بَاطِنُ مُحَمَّدٍ الله۔،، ( شرح فصوص الحکم صفحه ۲۵ مطبوعہ مصر ) کہ آخری زمانہ میں آنے والا مہدی احکامِ شریعت میں اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ م کا تابع ہے۔اور ( آنحضرت ﷺ کی وجہ سے ) معارف علوم اور حقیقت میں ( آپ کے سوا ) تمام کے تمام انبیاء اور اولیاء اس کے تابع ہیں کیونکہ اس کا باطن محمد میم کا باطن ہے۔اس امت کا مسیح موعود جو احادیث میں مہدی اور نبی کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے، وہ امت محمدیہ کے مجددین میں مجد واعظم ہے اور اس کے خلفاء میں خاتم الخلفاء ہے اور آنحضرت دی ییم کی خلافت کے انتہائی بلند اور اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہے۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں: إِنِّي عَلَى مَقَامِ الْخَتْم مِنَ الْوَلَايَةِ كَمَا كَانَ سَيِّدِى الْمُصْطَفَى عَلَى مَقَامِ الْخَتْمِ مِنَ النُّبُوَّةِ وَإِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنَا خَاتَمُ