خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 31 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 31

مجددیت، محدثیت و ولايت وغيره: یہ خلافت کی وہ اقسام ہیں جو خلافت راشدہ کے اٹھ جانے کے بعد روحانی فیض رسانی کے لئے عام فیض کے رنگ میں جاری ہوتی ہیں۔یہ آیت استخلاف کے وعدہ الہیہ کے تحت قائم نہیں ہوتیں۔چنانچہ آنحضرت دل کی قوت قدسیہ کے اثر نیز آپ کی اتباع اور آپ کی پاک تعلیم کے فیض سے امت کے بہت سے بزرگوں نے مختلف روحانی مقامات حاصل کئے۔وہ آنحضرت کم کی خلافت کے روحانی پہلو کے ساتھ دین کی تجدید اور امت کی اصلاح کے کام کرتے رہے۔ان میں آنحضرت ام کی خلافت روحانی طور پر جاری ہوئی۔اس پہلو سے وہ بھی ایک رنگ میں آپ کے خلیفہ کہلائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” ہم کب کہتے ہیں کہ مجد داور محدّث دنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں۔بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجد داور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔۔۔۔۔وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں۔۔۔۔افسوس کہ معترض کو یہ سمجھ نہیں کہ مسجد دوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے۔جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔“ (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۰،۳۳۹) اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلافت کی اس قسم کو بیان فرمایا ہے جو امت میں مجد دین اور صلحائے امت کے ذریعہ جاری رہی۔خلافت کی انہی اقسام کو بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث بیان فرماتے ہیں: آیت استخلاف میں خلافت کے ایک دوسرے سلسلہ کا وعدہ بھی