خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 390
۱۳۸۶ مطابق ہوا تو اس امت میں بھی اس کے آخری زمانہ میں جو قرب قیامت کا زمانہ ہے حضرت عیسی کی مانند کوئی خلیفہ آنا چاہئے کہ جو تلوار سے نہیں بلکہ روحانی تعلیم اور برکات سے اتمام حجت کرے۔“ (شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۵،۳۶۴) ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام کام ہے میرا دلوں کو فتح کرنا ئے دیار مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں پر رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دنیا میں گزرے ہیں امیر و تاجدار در ششمین صفحه ۱۴۰ مطبوعه لندن) آپ کے منصب کے ساتھ دنیوی بادشاہت ، حکومت و ملوکیت کا کوئی حصہ نہیں تھا۔اس لئے آپ کی خلافت میں بھی اس کا حصہ نہیں ہوگا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو یا ماموریتم کون ہو؟ بادشاہ ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔مامور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو؟ خلیفہ کے لئے بادشاہ یا ماً مور ہونا شرط ہے۔یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبر نہیں کیا۔اگر کوئی کسی نبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے۔اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت