خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 389 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 389

۱۳۸۵ اس خلافت کے ہمراہ دنیوی بادشاہت وحکومت نہیں ہوگی حضرت طریقہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو ” خلیفہ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے کا نائب ہوتا ہے۔پس وعدہ کی ادنی حد یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد اس کے نائب ہوں۔اور یہ ظاہر ہے کہ جس رنگ کا نبی ہو اگر اسی رنگ میں اس کا نائب ہو جائے تو وعدہ کی ادنیٰ حد پوری ہو جاتی ہے۔اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے سپر دملکی نظام نہ تھا۔اس لئے آپ کی امر نبوت میں جو شخص نیابت کرے وہ اس وعدہ کو پورا کر دیتا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوملکی نظام عطا ہوتا تب تو اعتراض ہوسکتا تھا کہ آپ کے بعد خلفاء نے نیابت کس طرح کی۔مگر نظام ملکی عطا نہ ہونے کی صورت میں یہ اعتراض نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جس نبی کا کوئی خلیفہ ہوا سے وہی چیز ملے گی جو نبی کے پاس ہوگی اور جو اس کے پاس ہی نہیں ہوگی وہ اس کے خلیفہ کوکس طرح مل جائے گی۔“ (خلافت راشده، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۶۴) خلیفہ کا اصل معنی یہ ہے اور اس کا صحیح مفہوم بھی یہی ہے جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا ہے۔اس کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت صرف خلافتِ راشدہ، علی منہاج النبوۃ ہے جس کے ساتھ حکومت و ملوکیت منسلک نہیں ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : وو محمدی استخلاف کا سلسلہ موسوی استخلاف کے سلسلہ سے بکتی مطابق ہونا چاہئے جیسا کہ کما کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے اور جبکہ بکتی