خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 391
۱۳۸۷ ہونی چاہئے اور خدا خلیفہ کو ضرور حکومت دے گا۔اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے لائے۔آنحضرت ام کو چونکہ خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ کے پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؓ کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لڑتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔“ ( برکات خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۵۹ ۱۶۰) ان دونوں اقتباسات سے یہ بالکل واضح ہے کہ خلافت حقہ احمد یہ اسلامیہ کے ساتھ ملوکیت نہیں ہوگی۔حضرت خلیفہ المسح لثانی رضی اللہ عنہ سورۃ الجمعہ کی پہلی آیات کا ذکر کر کے فرماتے ہیں : انبیاء علیہم السلام کے اغراض بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ خلفاء کا بھی یہی کام ہوتا ہے۔کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری کرے۔پس جو کام نبی کا ہوگا وہی خلیفہ کا ہوگا۔اب اگر آپ غور اور تدبر سے اس آیت کو دیکھیں تو ایک طرف نبی کا کام اور دوسری طرف خلیفہ کا کام کھل جائے گا۔“ منصب خلافت - انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۲۴) نبی کی شان روحانی یعنی بادشاہت کے بغیر اور خلیفہ بھی روحانی شان والا یعنی اس کے ساتھ بھی ملوکیت نہیں ہوگی اور نہ ہی دو الگ الگ وجود خلیفہ ہوں گے۔نبی کا کام بیان فرمایا تبلیغ کرنا ، کافروں کو مومن کرنا ، مومنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر بار یک در باریک راہوں کا بتانا، پھر تزکیہ نفس کرنا، یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔“ منصب خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۲۸)