خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 381 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 381

پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیا جائے۔“ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۳) ” اے عزیز و! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔سواب ممکن نہیں کہ خدا تعالی اپنی قدیم سنت کو ترک کر د یو ہے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہمگین مت ہواور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے۔اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہ ہوگا۔“ وو (الوصیّت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۵) سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہوکر دعا میں لگے رہیں۔تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو۔اور تمہیں 66 دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔" ( الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶) با دشاہت دوسری قدرت نہیں ہے۔جو قدرت خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہے، اس کا ثبوت قدرتِ ثانیہ یعنی خلافت علی منہاج النبوۃ سے ملتا ہے۔یہ ثبوت بادشاہت سے نہیں ملتا۔؎ قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے۔حمد یہ خلافت تا قیامت ہے اور وہ دائی شہادت رسول ہے جس کا ذکر ” شہادۃ القرآن میں ہے۔قدرت ثانیہ حضرت ابو بکر کی مثال کے تحت خلافت راشدہ ہے جس پر تمام خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اجماع ہے۔حضرت سید محمد اسمعیل شہید قفرماتے ہیں: